اس سے قبل انڈونیشیا پہنچنے پر بھی انڈونیشیائی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے لینڈنگ سے پہلے وزیر اعظم مودی کے طیارے کو اسکورٹ کیا تھا، جو خصوصی سرکاری استقبال کی روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جکارتہ ہوائی اڈے پر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے خود موجود رہ کر وزیر اعظم مودی کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔
وزیر اعظم مودی کو گلے لگا کر الوداع کہا
بدھ کے روز روانگی کے موقع پر بھی اسی گرمجوشی اور احترام کا مظاہرہ کیا گیا۔ صدر پرابوو سوبیانتو ایک بار پھر خود ہوائی اڈے پہنچے، وزیر اعظم مودی کو گلے لگا کر الوداع کہا اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔دورے کے اختتام پر وزیر اعظم مودی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری کے مستقبل کے حوالے سے حاصل ہونے والے نتائج پر انہیں بے حد خوشی ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا کے عوام اور صدر پرابوو سوبیانتو کا پرتپاک استقبال اور بھارت-انڈونیشیا تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ان کی ذاتی کوششوں پر دلی شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس دورے سے دفاع و سلامتی، بحری تعاون، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل اختراع اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم مودی انڈونیشیا سے آسٹریلیا روانہ
انڈو- پیسیفک مشن کے تحت وزیر اعظم مودی بدھ کو انڈونیشیا سے آسٹریلیا روانہ ہوئے۔ ان کا یہ دورہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔دورے کے تیسرے اور آخری روز وزیر اعظم مودی نے یوگیاکارتا میں واقع ایک ہزار سال قدیم پرمبانن مندر میں پوجا کی۔ اس موقع پر صدر پرابوو سوبیانتو بھی ان کے ہمراہ مندر پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کی جانب سے مندر کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کی یادگاری تختی کی مشترکہ طور پر نقاب کشائی بھی کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

