وکٹوریہ (سیشلز): وزیراعظم نریندر مودی کو حالیہ دورۂ سیشلز کے دوران دیے گئے 'گارڈین آف دی بلیو ہورائزن' اعزاز کی صداقت پر اٹھنے والے سوالات کے بعد جمہوریہ سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دستاویز حتمی اعزازی سند نہیں بلکہ صرف ایک ابتدائی مسودہ (ڈرافٹ) تھا۔
وائرل دستاویز میں موجود خامیاں ابتدائی مسودے کا حصہ تھیں
وزارتِ خارجہ کے مطابق، انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اعزازی سند دراصل تیاری کے ابتدائی مرحلے کی دستاویز تھی، جس میں جلدبازی کے باعث بعض ٹائپنگ اور تکنیکی خامیاں رہ گئی تھیں۔ اسی وجہ سے اس میں ہجے کی غلطیاں، نامکمل مہر اور دیگر نقائص موجود تھے۔ وزارت نے واضح کیا کہ وائرل دستاویز پر نظر آنے والے دستخط بھی صدر کے اصل دستخط نہیں تھے، بلکہ صرف ایک عارضی یا پلیس ہولڈر دستخط تھے، جو مسودہ تیار کرنے کے دوران معمول کی کارروائی کے تحت استعمال کیے جاتے ہیں۔
حتمی اعزازی سند کئی مراحل کی جانچ کے بعد جاری کی جاتی ہے
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ ایسے رسمی اعزازی اسناد اور تقریبات سے متعلق دستاویزات کی تیاری کے لیے ڈیجیٹل ڈیزائن سافٹ ویئر کا استعمال ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے، خصوصاً جب کام محدود وقت میں مکمل کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی ڈرافٹ صرف داخلی جانچ اور نظرثانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ حتمی دستاویز مختلف سطحوں پر تصدیق، جانچ اور سرکاری منظوری کے بعد ہی جاری کی جاتی ہے۔ وائرل ہونے والی دستاویز اس حتمی مرحلے سے نہیں گزری تھی۔
صرف سرکاری طور پر جاری کردہ دستاویزات پر اعتماد کرنے کی اپیل
سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف ان دستاویزات پر اعتماد کریں جو سرکاری طور پر جاری کی گئی ہوں اور کسی نامکمل یا ابتدائی مسودے کی بنیاد پر نتائج اخذ نہ کریں۔ وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے میں افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات سے گریز کیا جائے، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو عطا کیا گیا 'گارڈین آف دی بلیو ہورائزن' اعزاز مکمل طور پر مستند ہے اور اس کی حتمی، منظور شدہ اعزازی سند ہی قانونی اور سرکاری حیثیت رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

