Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Hazaribagh Crime News: ہزاری باغ میں پانچ روز قبل لاپتہ ہونے والے بہن اور بھائی کی لاشیں برآمد، قتل کا شبہ، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم دی گئی تشکیل

Hazaribagh Crime News: ہزاری باغ میں پانچ روز قبل لاپتہ ہونے والے بہن اور بھائی کی لاشیں برآمد، قتل کا شبہ، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم دی گئی تشکیل

Bharat Express 3 weeks ago

ہزاری باغ: جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ کے کٹکمداگ تھانہ علاقے سے پانچ روز قبل لاپتہ ہونے والے سگے بہن بھائی کی لاشیں مختلف مقامات سے برآمد ہونے کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں بچوں کو قتل کیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ہزاری باغ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ فورنسک اور تکنیکی ماہرین کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔

پانچ روز قبل لاپتہ ہوئے تھے دونوں بچے

پولیس کے مطابق کٹکمداگ تھانہ علاقے سے 27 مئی کو لاپتہ ہونے والی 12 سالہ تمنا پروین اور اس کے تین سالہ بھائی رضوان کی مسلسل تلاش جاری تھی۔ اسی دوران اتوار کی دیر رات تمنا پروین کی لاش شہر کے کورّا تھانہ علاقے میں واقع سندور ندی سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد پیر کی دوپہر اس کے بھائی رضوان کی لاش بھی سندور علاقے کے ایک کنویں سے ملی، جس کے بعد معاملے نے مزید سنگین رخ اختیار کر لیا۔

خاندان پر ٹوٹ پڑا غم کا پہاڑ

بچوں کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے والد نے کٹکمداگ تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ پولیس اور اہل خانہ مسلسل ان کی تلاش میں مصروف تھے، تاہم دونوں بچوں کی لاشیں ملنے کے بعد خاندان شدید صدمے سے دوچار ہے۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں بھی شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جا رہی ہے۔

متاثرہ خاندان کا پولیس پر لاپرواہی کا الزام

اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان کا تعلق اصل میں اتر پردیش سے ہے اور وہ ہزاری باغ میں کھلونے فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ بچوں کی گمشدگی کی اطلاع دینے کے باوجود پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید دونوں بچوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

ہزاری باغ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امن کمار نے واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کی ہدایت پر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امت کمار کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تفتیشی ادارے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امت کمار نے بتایا کہ پولیس ہر ممکن زاویے سے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں مسلسل مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔

پوسٹ مارٹم اور تکنیکی شواہد پر انحصار

پولیس کو امید ہے کہ جلد ہی اس معمہ کو حل کر لیا جائے گا۔ فی الحال پوسٹ مارٹم رپورٹ، تکنیکی شواہد اور دیگر دستیاب سراغوں کی مدد سے بچوں کی موت کی وجوہات اور واقعے کے پس پردہ ممکنہ سازش کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک پولیس نے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا ہے، تاہم ابتدائی طور پر قتل کے شبے کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu