Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
HC Stays CAG Audit of Delhi Power Companies: دہلی بجلی کمپنیوں کے سی اے جی آڈٹ پر سپریم کورٹ کی روک، 15 جولائی تک جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے کا حکم

HC Stays CAG Audit of Delhi Power Companies: دہلی بجلی کمپنیوں کے سی اے جی آڈٹ پر سپریم کورٹ کی روک، 15 جولائی تک جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے کا حکم

Bharat Express 1 week ago

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی کی نجی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مجوزہ آڈٹ سے متعلق جاری تنازع میں اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے 15 جولائی تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی جانب سے مجوزہ آڈٹ اور آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی تقرری سے متعلق تمام کارروائی فی الحال روک دی ہے۔

سپریم کورٹ کی ڈی ای آر سی کی اپیل پر سماعت

جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس شری چندر شیکھر پر مشتمل بنچ نے یہ عبوری حکم دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ کمیشن نے بجلی اپیلیٹ ٹریبونل (اے پی ٹی ای ایل) کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایک اہم قانونی سوال سے متعلق ہے، جس کی تفصیلی تشریح ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر اگلی سماعت تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔

15 جولائی تک آڈٹ پر روک برقرار

سپریم کورٹ نے مقدمے کی اگلی سماعت 15 جولائی مقرر کرتے ہوئے اے پی ٹی ای ایل کے اس حکم پر بھی روک لگا دی، جس میں ڈی ای آر سی کو آڈٹ کے لیے ایک آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگلے حکم تک سی اے جی بھی آڈٹ کے عمل کو آگے نہیں بڑھائے گا۔

کیا ہے تنازع کی اصل وجہ؟

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جڑا ہے، جس میں 2011 سے 2014 کے درمیان ڈی ای آر سی کی جانب سے جاری ٹیرف احکامات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی گئی تھی۔ اگست 2025 میں سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے جمع کی گئی ریگولیٹری اثاثوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بجلی ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ یہ جانچ کریں کہ یہ اثاثے کن حالات میں جمع ہوئے۔ حالانکہ، اس فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ مذکورہ آڈٹ کس ادارے کے ذریعے کرایا جائے گا۔

لیفٹیننٹ گورنر کے فیصلے پر بھی تنازع

اس کے بعد مارچ 2026 میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے سی اے جی کے ذریعے آڈٹ کرانے کی منظوری دے دی تھی۔ اس فیصلے کو بجلی اپیلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا، جہاں ٹریبونل نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق ڈی ای آر سی، سی اے جی کو آڈٹ کی ذمہ داری نہیں دے سکتا۔ اس کے بجائے ٹریبونل نے آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ ڈی ای آر سی کی نظرثانی درخواستیں بھی مسترد ہونے کے بعد کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

دونوں فریقوں نے کیا دلائل دیے؟

سماعت کے دوران ڈی ای آر سی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگست 2025 کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں جس آڈٹ کا ذکر کیا گیا تھا، وہ ریگولیٹری اثاثوں کے مسئلے کے حل کا بنیادی حصہ ہے اور صارفین سے کسی بھی قسم کی وصولی سے پہلے اس آڈٹ کا مکمل ہونا ضروری ہے۔

دوسری جانب بجلی کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازع صرف اس بات تک محدود ہے کہ آڈٹ کون کرے گا۔ ان کے مطابق آڈٹ اور ریگولیٹری اثاثوں کی وصولی دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔

معاملہ چیف جسٹس کے سامنے بھیجا گیا

دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ اگست 2025 کے اپنے فیصلے کی تشریح کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے عدالت نے معاملہ بھارت کے چیف جسٹس کے پاس بھیجنے کی ہدایت دی تاکہ اسے مناسب بنچ کے سپرد کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu