بھارت کے وزیرِاعظم نریندرمودی اورآسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیزکی موجودگی میں بھارت اورآسٹریلیا کے درمیان متعدد اہم معاہدوں پردستخط کئے گئے۔ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی، بحری تحفظ، سائبرٹیکنالوجی، سپلائی چین، جوہری توانائی، خلائی تعاون اورتجارت سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کومزید وسعت دینے پراتفاق کیا۔ دونوں لیڈران نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد، انڈوپیسیفک خطے میں امن واستحکام کے فروغ اورعالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اورسفارت کاری کومؤثرترین راستہ قراردیا۔
دفاعی اورسیکورٹی تعاون کونئی مضبوطی
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزنے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاعی اورسیکورٹی تعاون سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس سے عملی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔ ان کے مطابق آسٹریلیا، بھارت کواپنے اہم ترین سیکورٹی شراکت داروں میں شمارکرتا ہے اوردونوں ممالک ایک پُرامن، مستحکم اورخوشحال انڈوپیسیفک خطے کے لئے پُرعزم ہیں۔ دونوں ملکوں نے اسٹریٹجک ہم آہنگی کومزید فروغ دینے، مشترکہ فوجی مشقوں کوزیادہ مؤثراورجدید بنانے اوردونوں افواج کے درمیان باہمی عملی تعاون (انٹرآپریبلٹی) کومضبوط کرنے پراتفاق کیا۔ اس کے علاوہ انڈوپیسیفک خطے سے متعلق دفاعی امورپرباقاعدہ مشاورت جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
ہندوستان اورآسٹریلیا نے جامع شراکت داری کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان اورآسٹریلیا نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری (Comprehensive Strategic Partnership) کومزید مضبوط بنانے پراتفاق کرتے ہوئے دفاع اورسلامتی کے شعبوں میں تعاون کونئی وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے وزرائے دفاع کی سطح پر باقاعدہ مذاکرات، مشترکہ فوجی مشقوں میں اضافہ اورجدید دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پربھی رضا مندی ظاہرکی ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پراطمینان کا اظہارکیا کہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے آغازکے بعد باہمی اسٹریٹجک ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اورعوامی سطح پرروابط بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
دفاعی تعاون کونئی وسعت
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اورآسٹریلیا ایک جدید، مربوط اوراعلیٰ سطح کی دفاعی وسلامتی شراکت داری کوفروغ دینے کے لئے پُرعزم ہیں۔ دونوں ممالک نے ہند-بحرالکاہل (انڈوپیسیفک) خطے میں قواعد پرمبنی نظام، خودمختاری، سمندری سلامتی اوراقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر(یواین سی ایل اوایس) کی پاسداری کی اہمیت پرزوردیا۔ اس کے علاوہ وزرائے دفاع کے درمیان باقاعدہ مذاکرات اوراسٹریٹجک تبادلۂ خیال کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مشترکہ فوجی مشقوں میں ہوگا اضافہ
ہندوستان اورآسٹریلیا نے مشترکہ فوجی مشقوں کی تعداد اوران کی نوعیت کومزید مؤثراورپیچیدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی (Interoperability) کو مضبوط بنانے، حساس معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے علاقوں میں فوجی طیاروں کی تعیناتی بڑھانے پربھی اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کومزید مستحکم بنانے کے لیے فوجی افسران کی تربیت، تعلیمی پروگراموں، ایکسچینج پروگرام اور رابطہ افسران (Liaison Roles) کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ India-Australia Maritime Security Collaboration Roadmap کے تحت سمندری سلامتی کے شعبے میں تعاون کومزید گہرا کرنے پربھی اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک دفاعی صنعتوں کے درمیان سپلائی چین، دفاعی پیداوار، دفاعی اختراعات اورجدید دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک کو فروغ دیں گے۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجی اورسپلائی چین کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے Australia-India PACTS کومزید مضبوط بنانے پربھی اتفاق کیا گیا۔

