نئی دہلی: اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل نمائندے سید اکبرالدین نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ احتیاط اور توازن اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آج بھارت جتنا دنیا کے لیے اہم ہے، اتنی ہی دنیا بھی بھارت کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اب نوجوان آبادی کی توقعات اور عام شہریوں کی روزمرہ ضروریات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں طویل سفارتی تجربہ رکھنے والے سید اکبرالدین نے یہ باتیں بھارتی پوڈکاسٹر اور کاروباری شخصیت راج شمانی کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کے دوران کہیں۔ اس موقع پر انہوں نے سفارت کاری کی بدلتی نوعیت، نوجوانوں کی توقعات اور عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان بھارتیوں کی توقعات ماضی کی نسلوں سے مختلف ہیں۔ جہاں پہلے خارجہ پالیسی نظریاتی مؤقف اور سیاسی وابستگیوں کے گرد گھومتی تھی، وہیں آج کے نوجوان عملی فوائد چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان بیرون ملک روزگار کے مواقع، آسان ویزا پالیسی، بہتر ریمیٹنس نظام اور اقتصادی تعاون جیسے عملی نتائج کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
سید اکبرالدین نے کہا، "آج کا عام بھارتی خارجہ پالیسی سے ایسے نتائج چاہتا ہے جو اس کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالیں۔ وہ بہتر روزگار، آسان سفری مواقع اور بیرون ملک سے رقم بھیجنے کے آسان طریقے چاہتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی بھارت کے عالمی روابط میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1980 کی دہائی میں بھارت عالمی مسائل پر زیادہ کھل کر اور فوری ردعمل دیتا تھا۔ ان کے مطابق اس دور میں اگر کسی ملک میں سیاسی بحران یا تنازع پیدا ہوتا تو بھارت فوری طور پر اس پر ردعمل دیتا اور کھلے عام مذمت کرتا تھا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ بھارت کی عالمی معیشت میں شمولیت بڑھنے کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہو گئی۔ ان کے مطابق 1980 کی دہائی میں بھارت کی عالمی اقتصادی شمولیت تقریباً 15 سے 17 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس تبدیلی نے بھارت کو زیادہ محتاط اور متوازن پالیسی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "آج عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا براہ راست اثر بھارت کے داخلی مفادات پر پڑتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے ردعمل میں زیادہ سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہیے"۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری میں جلد بازی سے گریز اور طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہوتی ہے۔
جغرافیائی سیاسی حقائق پر گفتگو کرتے ہوئے سید اکبرالدین نے کہا کہ ہر ملک اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر عالمی تعلقات کو آگے بڑھاتا ہے۔ انہوں نے ایران میں چین کے اثر و رسوخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین وہاں سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا اثر زیادہ ہے، جبکہ یورپی ممالک کا اثر نسبتاً کم نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خارجہ پالیسی کے نتائج کو فوری بنیادوں پر نہیں پرکھنا چاہیے، کیونکہ سفارت کاری ایک طویل المدتی عمل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں وقت لگتا ہے جبکہ بعض معاملات تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، اور ہر ملک کے پاس اثر و رسوخ کی سطح مختلف ہوتی ہے۔ سید اکبرالدین نے کہا کہ بھارت کی ایک بڑی طاقت خلیجی خطے میں اس کا مضبوط اثر ہے، جس کے ذریعے بھارت اپنے مفادات کا مؤثر دفاع کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو اس کے اثر و رسوخ اور حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ عالمی مسائل پر کتنی سخت یا فوری تنقید کرتا ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں بھارت کو متوازن، محتاط اور مستقبل پر نظر رکھنے والی خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی، تاکہ عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

