Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
India-Indonesia Strategic Partnership: بھارت اور انڈونیشیا کا دفاع، تجارت اور بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم، وزیر اعظم مودی اور صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان جانئے کن کن معاہدوں پر ہوا اتفاق؟

India-Indonesia Strategic Partnership: بھارت اور انڈونیشیا کا دفاع، تجارت اور بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم، وزیر اعظم مودی اور صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان جانئے کن کن معاہدوں پر ہوا اتفاق؟

Bharat Express 1 week ago

جکارتہ: وزیراعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا کے سرکاری دورے کے دوران بھارت اور انڈونیشیا نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تکنیکی، علاقائی اور بحری تعاون سمیت مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مشترکہ بیان کے مطابق، 6 سے 8 جولائی تک جاری وزیرِ اعظم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے باقاعدگی سے سربراہی ملاقاتیں منعقد کرنے اور موجودہ دوطرفہ مذاکراتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ دفاعی مذاکرات، مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی تحقیق، نئی دفاعی ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری، ہائیڈروگرافی، امن مشن، معلومات کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے براہموس میزائل نظام اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے متعلق تعاون کو دفاعی شراکت داری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ بحری شعبے میں دونوں ممالک نے میری ٹائم ڈومین آگاہی، ساحلی نگرانی، انسانی امداد، آفات سے نمٹنے، آلودگی پر قابو پانے اور تلاش و بچاؤ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور خلائی شعبوں میں نئے مواقع

بھارت اور انڈونیشیا نے تجارت اور سرمایہ کاری کو دوطرفہ تعلقات کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے آسیان-بھارت تجارتی معاہدے (AITIGA) پر نظرثانی جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے مالیاتی شعبے، ڈیجیٹل معیشت، اہم معدنیات اور مضبوط سپلائی چینز میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس موقع پر معدنیات اور اسٹیل سپلائی چین سے متعلق معاہدوں کا خیرمقدم کیا گیا، جن میں اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (SAIL) اور انڈونیشیا کی پی ٹی کراکاٹاؤ اسٹیل کے درمیان اسٹریٹجک مشترکہ منصوبہ بھی شامل ہے، جس کے تحت انڈونیشیا میں اسٹین لیس اسٹیل سلیب تیار کرنے کی فیکٹری کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے صحت، دواسازی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، کھاد، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، ایل این جی، بایو انرجی اور توانائی کی بچت کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی تعاون کے تحت اسرو (ISRO) اور انڈونیشیا کی قومی تحقیق و اختراع ایجنسی (BRIN) کے درمیان جاری اشتراک، خلائی تحقیق کے پرامن استعمال سے متعلق معاہدے میں توسیع اور بھارت کے گگن یان مشن میں تعاون کا خیرمقدم کیا گیا۔ صدر پرابوو نے انڈونیشیا کے سیٹلائٹ لانچ اور مجوزہ اسپیس پورٹ منصوبے میں بھارت کے تعاون کو بھی سراہا۔

ثقافتی روابط، علاقائی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف

وزیراعظم مودی اور صدر پرابوو نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل پرمبانن مندر کی بھارتی تعاون سے مکمل ہونے والی مرمت اور تحفظ کی اسکیم کا بھی افتتاح کیا۔ دونوں ممالک نے 2026-27 کو ''ٹیگور-دیوانتارا سال برائے بھارت-انڈونیشیا ثقافتی و تعلیمی سفارت کاری'' کے طور پر منانے کا اعلان کیا، تاکہ رابندر ناتھ ٹیگور کے 1927 کے انڈونیشیا کے تاریخی دورے کی صد سالہ تقریبات منائی جا سکیں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں شامل دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی مالی معاونت، سائبر سکیورٹی، منظم جرائم اور نئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، گلوبل ساؤتھ کی مؤثر نمائندگی اور قانون پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک آزاد، کھلے، شفاف، پرامن، خوشحال اور جامع ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے خودمختاری، علاقائی سالمیت، بین الاقوامی قانون اور سمندری راستوں کی آزادی کے احترام پر زور دیا۔ مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دورے کے اختتام پر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور انہیں مناسب وقت پر بھارت کے دورے کی دعوت دی۔ اس موقع پر انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری کے ارکان نے بھی اس دورے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu