Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
IndiGo Flight Power Bank Blast: انڈیگو فلائٹ میں پاور بینک بلاسٹ! بال بال بچے مسافر، جانئے کتنا خطرناک ہے یہ چھوٹا گیجٹ؟

IndiGo Flight Power Bank Blast: انڈیگو فلائٹ میں پاور بینک بلاسٹ! بال بال بچے مسافر، جانئے کتنا خطرناک ہے یہ چھوٹا گیجٹ؟

Bharat Express 2 weeks ago

چنڈی گڑھ: انڈیگو کی ایک پرواز میں پاور بینک میں اچانک آگ لگنے کے واقعے نے ہوابازی کی سلامتی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ منگل 5 مئی کو چندی گڑھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے اس واقعے میں اگرچہ تمام مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، تاہم کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور طیارے کے اندر شدید افرا تفری پھیل گئی۔ ایئرلائن حکام کے مطابق حیدرآبادسے آنے والی پرواز 6E 108 جب چنڈی گڑھ پہنچی تو لینڈنگ کے فوراً بعد ایک مسافر کے پاور بینک میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کیبن میں تیزی سے دھواں پھیل گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عملے نے فوری طور پر ایمرجنسی پروٹوکول نافذ کیا اور مسافروں کو ایمرجنسی سلائیڈ کے ذریعے باہر نکالا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس پرواز میں تقریباً 198 مسافر، دو کمسن بچے اور عملے کے چھ ارکان موجود تھے۔ جیسے ہی دھواں پھیلا، مسافروں میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا، تاہم عملے کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی اور چند ہی لمحوں میں صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ماہرین نے ایک بار پھر پاور بینک جیسے عام استعمال کے گیجٹ کے ممکنہ خطرات پر توجہ دلائی ہے۔ پاور بینک دراصل ایک پورٹیبل چارجر ہوتا ہے، جس میں لیتھیم آئن یا لیتھیم پولیمر بیٹریاں نصب ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن اگر ان میں خرابی پیدا ہو جائے یا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاور بینک میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ اوور ہیٹنگ ہوتی ہے۔ جب بیٹری زیادہ گرم ہو جاتی ہے تو اس کے اندر کی کیمیائی سرگرمیاں بے قابو ہو سکتی ہیں، جس سے آگ لگنے یا دھماکے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اوور چارجنگ بھی ایک اہم سبب ہے، کیونکہ کئی صارفین پاور بینک کو طویل عرصے تک چارج پر لگائے رکھتے ہیں، جس سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ کم معیار یا غیر معیاری پاور بینک بھی حادثات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسے آلات میں حفاظتی نظام مؤثر نہیں ہوتا، جس کے باعث شارٹ سرکٹ یا اندرونی نقصان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر پاور بینک گر جائے، دب جائے یا اس میں کسی قسم کی جسمانی خرابی پیدا ہو جائے تو یہ بھی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

ہوابازی کے شعبے میں پاور بینک کو خاص طور پر حساس سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے قواعد کے مطابق پاور بینک کو صرف کیبن بیگ میں رکھنے کی اجازت ہوتی ہے، جبکہ اسے چیک اِن سامان میں رکھنے کی ممانعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بیٹری میں کوئی خرابی پیدا ہو تو کیبن میں فوری طور پر اس کا علم ہو جاتا ہے اور بروقت کارروائی ممکن ہوتی ہے، جبکہ کارگو میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ کئی ایئرلائنز نے پرواز کے دوران پاور بینک کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بند جگہ جیسے طیارے کے کیبن میں آگ یا دھواں تیزی سے پھیل سکتا ہے، جس سے مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ حفاظتی ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ معیاری اور تصدیق شدہ کمپنیوں کے پاور بینک استعمال کریں۔ سستے اور غیر معروف برانڈز سے گریز کیا جائے، کیونکہ ان میں حفاظتی خصوصیات ناکافی ہوتی ہیں۔ چارجنگ کے دوران اگر پاور بینک غیر معمولی طور پر گرم ہو جائے تو فوراً چارجنگ بند کر دینی چاہیے۔

اس کے علاوہ خراب یا پھولی ہوئی بیٹری والے پاور بینک کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ سفر کے دوران اسے ایسی جگہ رکھا جائے جہاں اس پر نظر رکھی جا سکے اور اسے دھات یا دیگر اشیاء کے ساتھ ٹکرانے سے بچایا جائے۔ اوپر والے کیبن میں رکھنے کے بجائے اسے اپنے بیگ میں محفوظ طریقے سے رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ چنڈی گڑھ میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک واضح انتباہ ہے کہ روزمرہ کے استعمال کی چھوٹی اشیاء بھی غیر معمولی حالات میں بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگرچہ اس بار کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس طرح کے واقعات مستقبل میں زیادہ احتیاط اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ اس کے خطرات کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاور بینک جیسے آلات نے ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے، مگر ان کے استعمال میں معمولی لاپروائی بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوی ایشن حکام اور ایئرلائنز اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مسافروں کو مسلسل آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu