دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں 5 مئی کی شام دہلی کیپیٹلز اور چنئی سپر کنگز کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ کھیلا گیا۔ میچ تو سنسنی خیز تھا اور اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن نتیجے سے زیادہ ایک واقعہ زیرِ بحث آ گیا جس نے سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کے درمیان بحث چھیڑ دی۔ یہ معاملہ دہلی کیپیٹلز کے بلے باز نتیش رانا کے وکٹ سے جڑا ہے۔
کیا تھا پورا واقعہ؟
یہ سارا معاملہ دہلی کی اننگز کے 10ویں اوور میں پیش آیا۔ گیند نور احمد کے ہاتھ میں تھی۔ اوور کی تیسری گیند پر نتیش رانا نے بیک ورڈ اسکوائر لیگ کی طرف زوردار شاٹ کھیلا۔ وہاں موجود فیلڈر کارتک شرما نے پھرتی دکھاتے ہوئے شاندار کیچ پکڑ لیا۔ امپائر نے فوراً انگلی اٹھا دی اور نتیش رانا بغیر کسی احتجاج کے پویلین لوٹ گئے۔اصل تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اس وکٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور شائقین کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ آیا رانا آؤٹ تھے یا نہیں۔
سوشل میڈیا پر تنازع کیوں؟
ویڈیو کو لے کر دو طرح کی رائے سامنے آئیں۔ کچھ شائقین کا کہنا تھا کہ شاٹ کھیلنے سے پہلے ہی وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے گلوز لگنے سے بیلز گر گئی تھیں، اس لیے اسے ڈیڈ بال قرار دینا چاہیے تھا۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ بیلز سیمسن کی وجہ سے نہیں بلکہ تیز ہوا یا کسی کمپن کی وجہ سے خود ہی گر گئی تھیں، اس لیے کارتک شرما کا کیچ مکمل طور پر درست تھا۔
حقیقت کیا ہے؟
اگر ویڈیو کو غور سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سنجو سیمسن کے ہاتھ وکٹ سے کافی دور تھے، اس لیے یہ کہنا کہ ان کے گلوز سے بیلز گریں، درست نہیں لگتا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ بیلز خود ہی گر گئیں، جس کی وجہ تیز ہوا ہو سکتی ہے۔ اس لیے نتیش رانا کا آؤٹ ہونا کھیل کے اصولوں کے مطابق تھا۔
قواعد کیا کہتے ہیں؟
کرکٹ کے قوانین بنانے والے ادارے ایم سی سی کے مطابق اگر بیلز کسی بیرونی وجہ جیسے ہوا، کمپن یا کسی اور اثر سے گر جائیں اور اس میں فیلڈنگ ٹیم کا کوئی کردار نہ ہو، تو کھیل جاری رہتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر فیلڈر صاف کیچ پکڑ لے تو بلے باز کو آؤٹ ہی مانا جائے گا۔نتیش رانا نے بھی فیصلے کو تسلیم کر لیا، لیکن کرکٹ کے شائقین کی دلچسپی ایسی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بڑی بحث کا موضوع بن جاتی ہے، اور یہی منظر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

