امریکہ نے عبوری معاہدہ کے تحت ایران کوآبنائے ہرمزمیں ٹول لینے پرپابندی لگا دی ہے۔ یعنی معاہدہ پردستخط ہونے کے بعد ایران ٹول نہیں لے سکتا ہے۔ اسی درمیان ایران نے نیا داوچلا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمزمیں ٹول ٹیکس نہیں لے گا، لیکن ماحولیاتی اورحفاظتی خدمات کے نام پرپیسہ یقینی طورپراکٹھا کرے گا۔ پیرکے روزیہ جانکاری ایران وزارت خارجہ کے ترجمان اسمٰعیل بقائی نے دی ہے۔ اسمٰعیل بقائی کے مطابق، ٹول ٹیکس کے ذریعہ ایران کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ یہ مغربی میڈیا کا دیا ہوا لفظ ہے۔
اسمٰعیل بقائی نے کہا کہ معاہدہ کے بعد آبنائے ہرمزکوپوری طرح سے کھول دیا جائے گا، لیکن جہازوں کو سیکورٹی کے لئے جوہم خدمات دیں گے، اس کے لئے پیسہ توضرورلیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات کی نگرانی اورحفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آبنائے ہرمزخلیج فارس کا گیٹ وے ہے، جہاں سے بحری جہازخلیج فارس سے خلیج عمان میں داخل ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمزدنیا کا 20 فیصد تیل سپلائی کرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطراورعراق جیسے ممالک اس راستے سے اپنا تیل اورگیس فروخت کرتے ہیں۔
ماحولیاتی ٹیکس پرجاری رہے گا پروٹوکول
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم جلد ہی عمان کے ساتھ مل کرآبنائے ہرمز پرپروٹوکول جاری کریں گے۔ ہم جہازوں کو جو خدمت دیں گے، اس کے لئے پیسے لیں گے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی ٹیکس بھی لیا جائے گا۔ ہماری کوشش آبنائے ہرمز کوصاف رکھنے کی ہے۔ آنے والے وقت میں جب پروٹوکول جاری ہوگا، تب تصویر صاف ہوجائے گی۔
آبنائے ہرمز میں ایران نے لگایا تھا ٹول
28 فروری 2026 سے پہلے تک آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کولے جانے کے لئے کوئی ٹول نہیں دینا ہوتا تھا، لیکن امریکہ سے جنگ کے بعد ایران نے اس راستے پرٹول سسٹم نافذ کر دیا۔ اس کے تحت جہازوں سے سیکورٹی کے نام پر10-10 لاکھ روپئے لئے گئے۔ حالانکہ ہندوستان کے جہازوں سے کوئی پیسہ نہیں وصول کیا گیا۔ پاکستان اورچین کے جہازبھی آبنائے ہرمز سے مفت میں گزرے۔ وہیں دوسری جانب، ایران نے آبنائے ہرمزمیں ٹول وصول کرنے کے لئے ایک الگ وزارت بنانے کا بھی اعلان کیا۔ اس وزارت کا سوشل میڈیا اکاونٹ بھی بنایا گیا ہے۔ آئی آرجی سی کے ماتحت اس وزارت کو رکھا گیا ہے۔ آبنائے ہرمزکی نگرانی بھی پاسداران انقلاب کے جوان ہی کررہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-

