امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی اقتصادی یا مالی مدد فراہم کرنے والے ممالک، کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی دباؤ کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں رہ سکتا۔ واشنگٹن ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو تہران کے ساتھ تجارت، تیل کی خریداری، مالی لین دین یا دیگر کاروباری روابط برقرار رکھتے ہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، جبکہ ترکی، عراق، پاکستان اور عمان بھی ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔
بھارت کے لیے کتنی مشکل؟
بھارت اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی امریکی پابندیوں کے باعث محدود ہیں۔ 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 1.63 ارب ڈالر رہی، جس میں زیادہ تر انسانی ضروریات سے متعلق اشیا شامل تھیں۔ اس لیے براہ راست اثر بھارت کی مجموعی معیشت پر بہت بڑا ہونے کا امکان نہیں، تاہم ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مخصوص بھارتی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بھارتی برآمد کنندگان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ادائیگی کے نظام، شپنگ اخراجات اور ایرانی مارکیٹ میں طلب سے متعلق ہوسکتا ہے۔ اگر امریکی پابندیاں مزید سخت ہوتی ہیں تو بینک اور مالیاتی ادارے ایران سے متعلق لین دین سے گریز کر سکتے ہیں، جس سے بھارتی کاروبار متاثر ہوسکتے ہیں۔
تیل اور عالمی معیشت پر بھی اثر
ایران پر بڑھتے امریکی دباؤ کا ایک بڑا اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پہلے ہی تیل کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر بھارت جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک پر بھی پڑے گا۔
یوں ٹرمپ کی ایران پالیسی کا اصل نشانہ تہران ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات ایران کے تجارتی شراکت داروں سے ہوتے ہوئے عالمی تجارت، توانائی اور بھارت کی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

