Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Jagdeep in Memories: یادوں میں جگدیپ: اشتیاق احمد جعفری کا 'سورما بھوپالی' آج بھی ہندی سنیما کی پہچان

Jagdeep in Memories: یادوں میں جگدیپ: اشتیاق احمد جعفری کا 'سورما بھوپالی' آج بھی ہندی سنیما کی پہچان

Bharat Express 6 days ago

کہا جاتا ہے کہ 1951 میں ہدایت کار بی آر چوپڑا اپنی پہلی فلم 'افسانہ' کے لیے چائلڈ آرٹسٹ کی تلاش میں تھے۔ روزگار کی تلاش میں پھرنے والے اشتیاق احمد جعفری کو ایک ایجنٹ ملا، جس نے انہیں فلم کے ایک منظر میں صرف تالیاں بجانے کے عوض تین روپے یومیہ کی پیشکش کی۔

جب مرکزی چائلڈ آرٹسٹ مشکل اردو مکالمے ادا نہ کر سکا

فلم کی شوٹنگ کے دوران جب مرکزی چائلڈ آرٹسٹ مشکل اردو مکالمے ادا نہ کر سکا تو اردو زبان پر عبور رکھنے والے اشتیاق احمد جعفری نے فوراً مصنوعی مونچھ اور داڑھی لگا کر وہ مکالمے ادا کیے۔ ان کے اعتماد سے متاثر ہو کر بی آر چوپڑا نے ان کی اجرت بڑھا کر چھ روپے کر دی، اور یہیں سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔

سنجیدہ اور جذباتی چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنائی

ابتدائی دور میں جگدیپ نے سنجیدہ اور جذباتی چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ فلم 'فٹ پاتھ' (1953) میں انہوں نے دلیپ کمار کے بچپن کا کردار ادا کیا۔ بغیر گلیسرین کے رونے کی شاندار اداکاری سے متاثر ہو کر دلیپ کمار نے انہیں 100 روپے انعام میں دیے تھے۔ فلم 'ہم پنچھی ایک ڈال کے' (1957) کی کامیابی کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی ان کی اداکاری سے متاثر ہوئے تھے۔ان کے کیریئر کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب عظیم ہدایت کار بمل رائے نے انہیں فلم 'دو بیگھا زمین' (1953) میں جوتے پالش کرنے والے 'لالو استاد' کا مزاحیہ کردار دیا۔ اس کردار کے بعد جگدیپ نے مزاحیہ اداکاری کو اپنا مستقل میدان بنا لیا۔1968 کی کامیاب فلم 'برہمچاری' نے انہیں مکمل مزاحیہ اداکار کے طور پر پہچان دلائی، لیکن 1975 کی شہرۂ آفاق فلم 'شعلے' میں ادا کیا گیا 'سورما بھوپالی' کا کردار انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔ بعد ازاں 1994 کی فلم 'انداز اپنا اپنا' میں انہوں نے 'بانکے لال بھوپالی' کا کردار بھی نبھایا، جسے خوب پسند کیا گیا۔ جگدیپ نے 'پرانا مندر' (1984) کے ڈاکو 'مچھر سنگھ' سے لے کر پریہ درشن کی فلم 'مسکراہٹ' (1992) کے 'بدری پرساد چورسیا' تک متعدد یادگار کردار اپنی بہترین مزاحیہ ٹائمنگ سے زندہ کر دیے۔ انہوں نے اپنی فنکارانہ روایت اپنے بیٹوں، اداکار جاوید جعفری، ٹیلی ویژن پروڈیوسر نوید جعفری اور پوتے میزان جعفری تک منتقل کی۔طویل علالت کے بعد 8 جولائی 2020 کو اس عظیم فنکار نے ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی، مگر 'سورما بھوپالی' کے روپ میں وہ آج بھی ہندی سنیما کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu