Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Janhvi Kapoor Personality Rights Case: جھانوی  کپور کے نام سے فحش مواد پر دہلی ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 552 یو آر ایل ہٹانے کی ہدایت

Janhvi Kapoor Personality Rights Case: جھانوی کپور کے نام سے فحش مواد پر دہلی ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 552 یو آر ایل ہٹانے کی ہدایت

Bharat Express 3 hrs ago

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کے نام، شناخت اور تصاویر کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دائر درخواست پر اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے انٹرنیٹ پر جھانوی کپور سے منسلک ایسے فحش اور پورنوگرافک مواد کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے جو واضح طور پر قابل اعتراض پایا گیا۔ عدالت نے اس معاملے میں 552 یو آر ایل کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے اداکارہ کے نام یا شناخت سے منسلک تمام فین پیجز اور یو آر ایل کو اجتماعی طور پر حذف کرنے کی درخواست مسترد کردی۔جھانوی کپور نے اپنی درخواست میں انٹرنیٹ پر ان کی شناخت اور تصاویر کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف کارروائی کی اپیل کی تھی۔ معاملے میں تقریباً 6,884 یو آر ایل عدالت کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔ درخواست گزار کی جانب سے ان تمام یو آر ایل کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے واضح کیا کہ ہر قسم کے آن لائن مواد کو ایک ہی زمرے میں رکھ کر اسے حذف کرنے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔

552 یو آر ایل پر کارروائی کا حکم

جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے ابتدائی جانچ کے بعد 552 یو آر ایل کے حوالے سے کارروائی کی ہدایت دی۔ عدالت کے مطابق ان یو آر ایل پر ایسا مواد موجود تھا ،جو بادی النظر میں انتہائی فحش یا پورنوگرافک دکھائی دیتا ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے متعلقہ مواد کو ہٹانے کا حکم دیا۔درخواست میں مبینہ طور جھانوی کپور کی تصاویر اور شناخت کے غلط استعمال کے کئی معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان میں فحش مواد کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر، ڈیپ فیک مواد، کسی دوسرے شخص کے نام سے چلائے جانے والے اکاؤنٹس اور جھانوی کپور بن کر پیش کیے جانے والے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے صاف طور پر قابل اعتراض مواد کو عام فین پیجز یا دیگر مواد سے الگ کرکے دیکھا جانا ضروری ہے۔

ہر فین پیج غیر قانونی نہیں: عدالت

دہلی ہائی کورٹ نے فین پیجز کے حوالے سے بھی اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی اداکار یا مشہور شخصیت کے نام سے فین پیج چلانا بذات خود غیر قانونی نہیں ہوسکتا۔ ایسے صفحات پر فنکار کی تصاویر، ویڈیوز، فلموں سے متعلق معلومات، تعریف یا تنقید جیسا مواد موجود ہوسکتا ہے۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ صرف کسی مشہور شخصیت کے نام یا تصویر کا استعمال کرنے کی بنیاد پر تمام فین کلب یا فین پیجز کو کیسے بند کرنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے عدالت نے 6,884 یو آر ایل کو اجتماعی طور پر ہٹانے کی درخواست قبول نہیں کی۔

فحش یا تجارتی غلط استعمال پر کارروائی ممکن

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی پیج کسی اداکارہ کی شناخت کا غلط استعمال کرتے ہوئے فحش مواد شائع کرتا ہے یا اس شناخت کے ذریعے غیر قانونی طور پر مالی فائدہ حاصل کرتا ہے، تو اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔جھانوی کپور کی درخواست میں ان کی شخصیت اور شناخت سے متعلق حقوق کے تحفظ کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ عدالت کے تازہ حکم میں قابل اعتراض فحش مواد اور عام فین مواد کے درمیان فرق کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ یوں عدالت نے ایک طرف جھانوی کپور سے منسلک واضح طور پر فحش مواد کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کی، جب کہ دوسری طرف محض کسی فنکار کے نام سے چلنے والے تمام فین پیجز کو غیر قانونی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu