Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Karkardooma Court rejected the bail pleas of Umar Khalid and Sharjeel Imam: عمرخالد اور شرجیل امام کو بڑا جھٹکا، عدالت نے خارج کردی ضمانت عرضی

Karkardooma Court rejected the bail pleas of Umar Khalid and Sharjeel Imam: عمرخالد اور شرجیل امام کو بڑا جھٹکا، عدالت نے خارج کردی ضمانت عرضی

Bharat Express 2 weeks ago

نئی دہلی: دہلی فسادات 2020 کے ملزم شرجیل امام اورعمرخالد کو ایک بار پھرعدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت عرضی خارج کردی ہے اورضمانت نہیں دی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ کڑکڑڈوما کورٹ نے جب فیصلہ سنایا تواس میں ضمانت عرضی خارج کردی گئی۔ اس طرح سے عمرخالد اورشرجیل امام ابھی جیل میں ہی رہیں گے۔ سماعت کے دوران شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل طالب مصطفیٰ نے دلیل دی کہ کیا کسی ملزم پرایک سال تک ضمانت کی درخواست دائرنہ کرنے جیسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرسپریم کورٹ کی بڑی بینچ کوبھی غورکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے بعض دیگرملزمان کومقدمہ بڑی بنچ کے سپرد کئے جانے کا فائدہ ملا ہے۔

دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ جب تک سپریم کورٹ کی بڑی بینچ کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آتی، تب تک سپریم کورٹ کے موجودہ نتائج، ہدایات اورپابندیاں نافذ العمل رہیں گی۔ سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ اگرملزمان کوکسی قسم کی شکایت یا اعتراض تھا توانہیں وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے تھا، کیونکہ اس معاملے کا درست فورم سپریم کورٹ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے توماتحت عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دراصل، دہلی فسادات کے مبینہ سازشی منصوبے سے متعلق مقدمے میں ملزم عمرخالد اورشرجیل امام نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد نئی ضمانت کی درخواستیں دائرکی ہیں، جس میں انہیں ضمانت نہ دینے کے لئے اختیارکی گئی تشریح پرسوالات اٹھائے گئے تھے۔

بغیرفردِ جرم کے 6 سال جیل میں گزاردیئے: عمرخالد

عمرخالد نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ تقریباً 6 سال سے عدالتی تحویل میں ہیں، حالانکہ ابھی تک ان کے خلاف فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیارکیا کہ مقدمے میں ملزمان، گواہوں اوراستغاثہ کی دستاویزات کی بڑی تعداد کودیکھتے ہوئے جلد سماعت شروع ہونے کا امکان کم ہے۔ دوسری جانب، شرجیل امام نے اپنی درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کئے جانے کے 6 ماہ بعد بھی مقدمے کی کارروائی میں کوئی "نمایاں پیش رفت" نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بغیرمقدمے کے تقریباً 6 سال سے حراست میں ہیں اوراس کیس میں ابھی تک فردِ جرم عائد ہونا باقی ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu