Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Karnataka Politics: کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کے بیچ ڈی کے شیوکمار نے سدارامیا کے چھوئے پیر، بریکفاسٹ میٹنگ میں ایک دوسرے کو لگایا گلے

Karnataka Politics: کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کے بیچ ڈی کے شیوکمار نے سدارامیا کے چھوئے پیر، بریکفاسٹ میٹنگ میں ایک دوسرے کو لگایا گلے

Bharat Express 1 week ago

بنگلورو: کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کے امکانات سے متعلق زور و شور سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعرات کو سرکاری رہائش گاہ 'کاویری' میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ساتھ ناشتے پر ملاقات کی۔ کرناٹک کانگریس کے صدر اور وزیر اعلیٰ عہدے کے مضبوط دعویدار مانے جانے والے ڈی کے شیوکمار کئی کابینی وزراء اور سدارامیا کے قریبی سینئر کانگریس رہنماؤں کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پہنچے۔

ملاقات نے بڑھائی سیاسی سرگرمیاں

یہ ملاقات اس لیے بھی خاص اہمیت اختیار کر گئی کیونکہ ریاست میں سدارامیا کے ممکنہ استعفے سے متعلق افواہیں زور پکڑ رہی ہیں۔ سدارامیا نے ڈی کے شیوکمار کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ کو سلام کرنے کے بعد شیوکمار نے ان کے پیر چھوئے اور انہیں گلے لگایا۔ اس ملاقات کی تصاویر سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار دونوں کے دفاتر کی جانب سے جاری کی گئیں۔ ریاستی کانگریس میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی کی خبروں کے درمیان شیوکمار کی جانب سے سدارامیا سے آشیرواد لینے کے منظر کو سیاسی طور پر نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل

کانگریس کے دو سینئر لیڈران کے درمیان ہم آہنگی اور قربت دکھانے والی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ تصاویر دونوں گروپوں کی جانب سے جان بوجھ کر جاری کی گئیں تاکہ کرناٹک کانگریس قیادت میں اتحاد اور تال میل کا پیغام دیا جا سکے۔ کرناٹک کانگریس نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایکس پوسٹ میں لکھا، ''وہ دن، آج کا دن اور ہمیشہ کے لیے… اتحاد ہی ہماری طاقت ہے۔ عوامی خدمت ہماری دائمی وابستگی ہے۔''

کئی وزراء اور اراکین اسمبلی بھی شریک

کابینی وزراء کے ساتھ ساتھ سدارامیا کے قریبی مانے جانے والے کئی اراکین اسمبلی بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سدارامیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ممکنہ استعفے اور ریاست میں مستقبل کی قیادت سے متعلق گردش کرتی خبروں پر وضاحت پیش کریں گے۔

جی پرمیشور کا ردعمل

وزیر داخلہ جی پرمیشور نے سدارامیا کی رہائش گاہ پر جاری سرگرمیوں اور ملاقات کی تصاویر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ سدارامیا کے استعفے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر پارٹی ہائی کمان کے ہاتھ میں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر سدارامیا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تو اس سے پسماندہ طبقات اور دلت برادری میں کوئی غلط پیغام جائے گا، تو انہوں نے جواب دیا، ''دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔''

گورنر کی غیرموجودگی سے سیاسی قیاس آرائیاں

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ممکنہ استعفے کے درمیان ریاستی گورنر تھاورچند گہلوت بنگلورو سے باہر چلے گئے ہیں، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ حالانکہ، کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کی غیر موجودگی استعفے کے عمل پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی اور توقع ہے کہ سدارامیا جمعرات دوپہر 3 بجے طے شدہ وقت کے مطابق اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

سرجے والا نے افواہوں کو کیا مسترد

پارٹی ذرائع کے مطابق سدارامیا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گورنر کے دفتر میں اپنا استعفیٰ جمع کرائیں، چاہے گورنر اس وقت بنگلورو میں موجود نہ ہوں۔ پارٹی لیڈران نے واضح کیا کہ طے شدہ پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے بدھ کے روز کانگریس کے اندر کسی بھی پاور شیئرنگ فارمولے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے ابھی تک کوئی دفتری فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu