وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کیرالہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پہلی بار بی جے پی-این ڈی اے حکومت اقتدار میں آنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے عوام نے طویل عرصے سے برسر اقتدار بائیں بازو کے اتحاد (ایل ڈی ایف) کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ریاست میں ایک بڑی تبدیلی قریب ہے۔
تبدیلی کی لہر اور عوامی حمایت کا دعویٰ
تھیروالا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس بار کیرالہ میں حالات پہلے سے مختلف ہیں اور تبدیلی کی ایک واضح لہر نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ اور 4 مئی کو نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی دہائیوں پر محیط بدانتظامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''اس بار کیرالہ میں تبدیلی کی ہوائیں ایک نئی سمت میں چل رہی ہیں اور یہ طے ہے کہ ایل ڈی ایف حکومت کے جانے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ پہلی بار بی جے پی-این ڈی اے حکومت بننے جا رہی ہے۔'' وزیراعظم نے اپنے جلسے کے دوران عوام کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کے کنارے موجود لوگوں کی بھیڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں این ڈی اے کے لیے زبردست حمایت موجود ہے۔
کارکنان کا جوش اور انتخابی حکمت عملی
وزیراعظم مودی نے ''میرا بوتھ، سب سے مضبوط'' مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے کیرالہ کے ہزاروں بی جے پی کارکنان سے بات چیت کی۔ ان کے مطابق 5 ہزار شکتی کیندروں سے وابستہ ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد کارکنان نے اس مہم میں حصہ لیا اور سب کا ایک ہی پیغام تھا کہ ریاست کے عوام اب ایل ڈی ایف حکومت کو اقتدار سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کارکنان کے جوش و خروش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی جذبہ انتخابی نتائج میں تبدیلی لا سکتا ہے اور پارٹی کو پہلی بار اقتدار تک پہنچا سکتا ہے۔
ترقیاتی وعدے اور مخالف حکومتوں پر تنقید
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف دونوں حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیرالہ کی ترقی کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں سڑکوں کی حالت خراب ہے، پلوں کی تعمیر نہیں ہوئی اور طبی سہولیات بھی ناکافی ہیں، جس سے عوام کی زندگی کا معیار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد کیرالہ کو پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جو ریاست کی ترقی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے این ڈی اے کے امیدوار انوپ انتونی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محنتی اور مخلص رہنما ہیں اور کیرالہ کے عوام کو ان کی خدمات سے فائدہ ہوگا۔ واضح رہے کہ کیرالہ اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ اس انتخاب میں بی جے پی-این ڈی اے پہلی بار ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

