Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Kumari Naaz Death Anniversary: کبھی بیبی ناز بن کر جیتا دل، پھر بنیں سری دیوی کی آواز، ایسا تھا کماری ناز کا سفر

Kumari Naaz Death Anniversary: کبھی بیبی ناز بن کر جیتا دل، پھر بنیں سری دیوی کی آواز، ایسا تھا کماری ناز کا سفر

Bharat Express 3 days ago

نئی دہلی : ہندی سنیما کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے بھی گزرے ہیں، جنہوں نے پردۂ سیمیں پر محدود وقت گزارنے کے باوجود اپنی صلاحیت سے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنالی۔ کماری ناز بھی ایسی ہی فنکارہ تھیں۔ بچپن میں وہ بیبی ناز کے نام سے مشہور ہوئیں اور اپنی معصوم اداکاری سے لوگوں کو متاثر کیا۔ بعد میں انہوں نے بڑی عمر کے کردار ادا کیے، بھوجپوری سنیما میں بھی اپنی شناخت بنائی اور جب اداکاری کے مواقع کم ہونے لگے تو ڈبنگ آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے سری دیوی کی ابتدائی ہندی فلموں کے لیے اپنی آواز دی۔کماری ناز کا اصل نام سلمیٰ بیگ تھا۔ ان کی پیدائش 20 اگست 1944 کو ممبئی میں ہوئی۔ ان کے والد مرزا داؤد بیگ مصنف تھے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ خاندان کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ناز کو انتہائی کم عمری میں ہی کام شروع کرنا پڑا۔ انہوں نے تقریباً چار سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ جس عمر میں بچے کھیلنے اور پڑھنے میں مصروف ہوتے ہیں، اس وقت ناز کی زندگی کیمرے اور شوٹنگ کے درمیان گزرنے لگی تھی۔

بطور چائلڈ آرٹسٹ ناز نے کئی فلموں میں کام کیا، لیکن 1954 میں ریلیز ہونے والی فلم بوٹ پالش نے ان کے کیریئر کو نئی بلندی دی۔ فلم میں انہوں نے بیلو نامی بچی کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کی معصوم اور مؤثر اداکاری نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا۔ فلم کو ملک کے ساتھ بیرون ملک بھی پذیرائی ملی اور 1955 کے کان فلم فیسٹیول میں مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا۔ کماری ناز کو اپنی اداکاری کے لیے خصوصی اعزاز بھی حاصل ہوا۔بوٹ پالش کے بعد بیبی ناز اپنے دور کی معروف چائلڈ آرٹسٹ بن گئیں۔ انہوں نے دیوداس، مسافر، لاجونتی ، دو پھول اور کاغذ کے پھول سمیت کئی مشہور فلموں میں کام کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انہوں نے بڑے کردار ادا کرنا شروع کیے اور فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔

معاون کرداروں سے بھوجپوری سنیما تک

بڑی ہونے کے بعد کماری ناز کو ہندی فلموں میں کئی معاون کردار ملے۔ 1970 کی فلم سچا جھوٹا میں انہوں نے راجیش کھنہ کی بہن کا کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ بہو بیگم، کٹی پتنگ اور ہاتھی میرے ساتھی جیسی فلموں میں بھی نظر آئیں۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ ناظرین کے ذہن میں بیبی ناز کی معصوم بچی والی شبیہ بہت مضبوط ہوچکی تھی۔ اس تصویر سے باہر نکل کر بالغ کرداروں میں خود کو منوانا ان کے لیے آسان نہیں رہا۔اسی دوران انہوں نے بھوجپوری سنیما کا رخ کیا۔ 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم بِدیسیہ سے انہیں بھوجپوری فلموں میں بھی بڑی شناخت ملی۔ اس کے بعد سینیا سے نہہ لگائیبے اور 'ایل بسنت بہار جیسی فلموں میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیے اور بھوجپوری سنیما کی مقبول اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔

سری دیوی کی ابتدائی فلموں کو دی آواز

کماری ناز کے کیریئر کا سب سے دلچسپ مرحلہ اس وقت آیا جب اداکاری کے مواقع کم ہونے لگے۔ انہوں نے اپنی آواز کو نیا ذریعۂ اظہار بنایا اور ڈبنگ آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کردیا۔اسی دور میں ان کی آواز سری دیوی سے جڑی۔ جب سری دیوی ہندی فلموں میں اپنی پہچان بنا رہی تھیں، اس وقت کماری ناز نے ان کی ابتدائی ہندی فلموں کے لیے ڈبنگ کی۔ ہمت والا، موالی اور توفہ جیسی فلموں کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے۔ پردے پر سری دیوی نظر آتی تھیں، لیکن ان کی آواز کے پیچھے کماری ناز کی محنت شامل تھی۔

ذاتی زندگی اور آخری دور

کماری ناز نے اداکار سبو راج سے شادی کی تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ کام بھی کیا تھا اور فلم دیکھا پیار تمہارا کے دوران ان کے تعلقات شروع ہوئے، جو بعد میں شادی میں تبدیل ہوگئے۔ دونوں کے دو بچے تھے۔ سبو راج، کپور خاندان سے بھی وابستہ تھے۔کماری ناز کا انتقال 19 اکتوبر 1995 کو 51 برس کی عمر میں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ جگر کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان کی زندگی کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک چائلڈ آرٹسٹ نے بیبی ناز کے نام سے شہرت حاصل کرنے کے بعد اداکاری، بھوجپوری سنیما اور ڈبنگ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کے کئی رنگ دکھائے اور فلمی دنیا میں اپنی الگ یاد چھوڑ گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu