Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Malaysia Bans Social Media Accounts For Children: ملائیشیا کا بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد

Malaysia Bans Social Media Accounts For Children: ملائیشیا کا بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد

Bharat Express 6 days ago

کوالالمپور: ملائیشیا نے بچوں کو آن لائن دنیا میں موجود نقصان دہ مواد اور ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ملک کے مواصلاتی نگران ادارے نے پیر کے روز اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے بعد یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کے لیے ایک محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر کی طرح ملائیشیا میں بھی بچوں اور نوعمر افراد میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین نفسیات اور سماجی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غیر مناسب آن لائن مواد، سائبر بُلنگ، غلط معلومات اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی صحت، رویّوں اور سماجی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہی خدشات کے پیش نظر ملائیشیا نے یہ نیا ضابطہ متعارف کرایا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق سرکاری شناختی دستاویزات کے ذریعے کرنا ہوگی۔ اس قانون کا اطلاق مختلف مقبول پلیٹ فارمز پر ہوگا، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی نئے صارف کو اکاؤنٹ بنانے سے قبل اپنی عمر کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ مقررہ عمر کی حد پر پورا اترتا ہے۔

ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) نے واضح کیا ہے کہ جو پلیٹ فارمز ان قواعد و ضوابط پر عمل درآمد میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر ایک کروڑ رنگٹ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ جرمانے اس لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ڈیجیٹل کمپنیوں کو بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانے پر مجبور کیا جا سکے۔ کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنا نہیں ہے۔ اس اقدام کا اصل مقصد آن لائن تحفظ کو بہتر بنانا اور سوشل میڈیا کمپنیوں، والدین اور سرپرستوں کی مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرنا ہے تاکہ کم عمر صارفین ایک محفوظ اور صحت مند ڈیجیٹل ماحول میں انٹرنیٹ استعمال کر سکیں۔

حکام کے مطابق نئے صارفین کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے، جبکہ پہلے سے موجود اکاؤنٹس کے لیے یہ عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس مقصد کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے نظام میں ضروری تبدیلیاں لا سکیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملائیشیا میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز، گمراہ کن اور نقصان دہ مواد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت پہلے ہی ایسے مواد کے خلاف کارروائیاں تیز کر چکی ہے جو نسلی یا مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتا ہے یا ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تازہ اقدام کو بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل نظم و ضبط کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu