Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Myanmar President U Min Aung Hlaing Meets PM Modi: میانمار کی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، صدر یو من آنگ ہلینگ کی وزیر اعظم مودی کو یقین دہانی

Myanmar President U Min Aung Hlaing Meets PM Modi: میانمار کی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، صدر یو من آنگ ہلینگ کی وزیر اعظم مودی کو یقین دہانی

Bharat Express 1 week ago

نئی دہلی: بھارت اور میانمار کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لیے پیر کے روز نئی دہلی میں اعلیٰ سطحی ملاقات منعقد ہوئی، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ نے مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے میانمار میں سرگرم بھارتی باغی گروپوں اور سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی کا معاملہ زور دے کر اٹھایا، جس پر میانمار کے صدر نے بھارت کو یقین دلایا کہ ان کے ملک کی سرزمین کو کسی بھی صورت بھارت کے سلامتی مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے سرحدی سلامتی اور شمال مشرقی بھارت میں سرگرم باغی تنظیموں کی نقل و حرکت سے متعلق خدشات میانمار کے صدر کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر یو من آنگ ہلینگ نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے واضح کیا کہ میانمار حکومت بھارت کی سلامتی سے متعلق حساس معاملات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے گی جو دونوں ممالک کے تعلقات یا علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

وکرم مسری کے مطابق میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری نے بریفنگ کے دوران میانمار کی داخلی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مختلف نسلی مسلح گروہوں اور فوج کے درمیان جاری تنازعات کا سامنا کر رہا ہے، تاہم میانمار حکومت تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور قومی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مختلف نسلی اور سیاسی گروہوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے کی خواہاں ہے جو وسیع قومی اتفاق رائے پر مبنی ہو اور مستقبل میں پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکے۔

مسری نے کہا کہ میانمار میں امن اور استحکام صرف اس ملک کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ میانمار میں پیدا ہونے والی صورتحال براہِ راست بھارت کے سلامتی مفادات، سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ رابطہ کاری کے منصوبوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بھارت اور میانمار کے درمیان تقریباً 1643 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کی سلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میانمار جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کا ایک اہم رکن ہے، اس لیے وہاں امن اور سیاسی استحکام آسیان کی مجموعی یکجہتی اور علاقائی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بھارت اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایک مستحکم، پرامن اور ترقی یافتہ میانمار نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا بلکہ پورے خطے میں اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میانمار کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری تعاون کی پالیسی پر کاربند ہے۔ دونوں ممالک نے اس ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرحدی سلامتی، اقتصادی تعاون، ترقیاتی شراکت داری اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو امن، سلامتی اور ترقی کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu