Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Narmada Water Dispute Settlement: پی ایم مودی اور امت شاہ کی ثالثی سے نرمدا تنازع ختم، مدھیہ پردیش کا بوجھ گھٹا، گجرات کو ادا کرے گا 217 کروڑ روپے

Narmada Water Dispute Settlement: پی ایم مودی اور امت شاہ کی ثالثی سے نرمدا تنازع ختم، مدھیہ پردیش کا بوجھ گھٹا، گجرات کو ادا کرے گا 217 کروڑ روپے

Bharat Express 2 weeks ago

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کا نرمدا آبی تنازع کے کئی دہائیوں پرانے معاملے کے حل میں مداخلت پر شکریہ ادا کیا۔

دہائیوں پرانا تنازع بالآخر حل

وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر اور راجستھان کے درمیان طویل عرصے سے جاری اس تنازع کا حل فروری 2026 میں بھارت کے اٹارنی جنرل کی قانونی رائے کے بعد ممکن ہوا۔ یہ رائے باز آبادکاری کے اخراجات کی تقسیم سے متعلق تھی۔

مدھیہ پردیش پر مالی بوجھ میں بڑی کمی

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مدھیہ پردیش پر تقریباً 1500 کروڑ روپے کا مالی بوجھ تھا، لیکن منگل کو نئی دہلی میں ہونے والی میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گجرات اب 50 فیصد کے بجائے 75 فیصد اخراجات برداشت کرے گا، جس کے بعد مدھیہ پردیش کا حصہ کم ہو کر صرف 217 کروڑ روپے رہ گیا۔ ریاستی وزیر چیتنیہ کمار کشیپ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ موہن یادو نے یہ معلومات کابینہ کے اجلاس میں دیں۔

کیا تھی تنازع کی اصل وجہ؟

نرمدا ڈیم گجرات میں واقع ہے، لیکن اس کے ذخیرۂ آب کے باعث بالائی ریاستوں کی زمینیں زیر آب آ جاتی ہیں۔ اسی لیے دریا کے فوائد اور اخراجات کی منصفانہ تقسیم کے لیے نرمدا آبی تنازع ٹریبونل تشکیل دیا گیا تھا۔ اگرچہ ٹریبونل نے 1979 میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا، لیکن اخراجات کی تقسیم، باز آبادکاری کے مصارف اور مختلف ریاستوں کے درمیان معاوضے سے متعلق تنازعات کئی دہائیوں تک حل طلب رہے۔

مرکزی حکومت کی ثالثی سے پیش رفت

بالآخر مرکزی وزارت کی ثالثی کے بعد اس معاملے کا حل نکال لیا گیا۔ بنیادی تنازع زمین کے حصول، ڈیم کی تعمیر کے لیے حاصل کیے گئے قرض، باز آبادکاری اور متاثرین کی آبادکاری پر آنے والے بھاری اخراجات کی تقسیم سے متعلق تھا۔

ایک مشت ادائیگی سے نمٹیں گے تمام معاملات

حتمی معاہدے کے تحت پرانے واجبات کا بڑا حصہ یا تو معاف کر دیا گیا ہے یا پھر انہیں نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ایک جامع حل ممکن بنایا جا سکے۔ مدھیہ پردیش حکومت نے تاریخی طور پر ڈیم منصوبے سے اپنی زمینوں کے زیر آب آنے کے عوض تقریباً 7,669 کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب طے پانے والے معاہدے کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت تمام زیر التوا باہمی مالی ذمہ داریوں کے تصفیے کے لیے گجرات کو ایک مشت 217 کروڑ روپے ادا کرے گی۔

گجرات اور راجستھان نے بھی ذمہ داریاں پوری کیں

چونکہ اس منصوبے سے آبپاشی اور پینے کے پانی کا سب سے بڑا فائدہ گجرات کو حاصل ہوتا ہے، اس لیے اس نے مالی بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کیا ہے اور اب وہ اس تنازع سے متعلق تمام قانونی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر منصوبے کو آگے بڑھا سکے گا۔ راجستھان، جسے نرمدا کے پانی سے آبپاشی اور زرعی ترقی کا فائدہ ملا ہے، اس نے بھی جامع معاہدے کے تحت اخراجات میں اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔

1979 میں نرمدا آبی تنازع ٹریبونل کے اصل فیصلے کے مطابق گجرات کو مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جیسی بالائی ریاستوں میں زمین کے حصول، باز آبادکاری اور متاثرین کی آبادکاری پر آنے والے اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کرنا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu