نئی دہلی: ملک بھر میں شدید گرمی کا قہر جاری ہے اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے۔ اسی درمیان پیر سے نو تپا کا آغاز ہو گیا ہے، جو 2 جون تک جاری رہے گا۔ نو تپا کے ان نو دنوں کو سال کا سب سے زیادہ گرم دور مانا جاتا ہے، جب زمین شدید تپش کا شکار ہوتی ہے اور لو چلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین صحت نے اس دوران خصوصی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران معمولی لاپروائی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ نو تپا کے دوران لو لگنے، جسم میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر بزرگ افراد، بچے اور پہلے سے بیمار لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں، اس لیے انہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں سب سے اہم بات جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا ہے۔ دن بھر میں کم از کم 3 سے 4 لیٹر پانی ضرور پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہلکے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہننے چاہئیں تاکہ جسم کو ہوا ملتی رہے اور گرمی کم محسوس ہو۔گھر سے باہر نکلتے وقت سر، چہرہ اور گردن کو اچھی طرح ڈھانپنا ضروری ہے۔ ٹوپی، اسکارف یا چھتری کا استعمال گرمی کے اثرات سے بچا سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس وقت دھوپ سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔صحت کے ماہرین نے کچھ چیزوں سے پرہیز کی بھی ہدایت دی ہے۔ شدید دھوپ میں بھاری کام یا زیادہ جسمانی مشقت نہیں کرنی چاہیے۔ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑی میں اکیلا چھوڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت بہت تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے دوران چائے، کافی، الکحل، کولڈ ڈرنکس اور فزی ڈرنکس کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے بجائے نمک اور چینی والا محلول یا او آر ایس پینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق نو تپا کے دوران ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کھانی چاہیے۔ اگر کسی کو چکر آنا، قے، شدید تھکن یا بہت زیادہ پسینہ آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ نو تپا کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ شدید گرمی کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو

