Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Odd-Even Policy: وزیر اعظم مودی کی اپیل کے بعد سکم بنا پہلا ریاست، ایندھن بچانے کے لیے 'آڈ-ایون' اسکیم نافذ

Odd-Even Policy: وزیر اعظم مودی کی اپیل کے بعد سکم بنا پہلا ریاست، ایندھن بچانے کے لیے 'آڈ-ایون' اسکیم نافذ

Bharat Express 5 days ago

عالمی سطح پر ایندھن کے بحران اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان سکم نے ایک اہم اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پہلی ایسی ریاست بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں ایندھن کی بچت کے لیے 'آڈ-ایون' اسکیم نافذ کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایندھن کی بچت اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل کے بعد سکم حکومت نے اس پالیسی کو نافذ کیا ہے، جس کا مقصد پٹرول کی کھپت کم کرنا اور عوام کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب راغب کرنا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت مخصوص دنوں میں صرف مخصوص نمبر والی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت دی جائے گی۔ منگل کے روز صرف آڈ یعنی طاق نمبر والی گاڑیاں چل سکیں گی، جبکہ بدھ کے روز صرف ایون یعنی جفت نمبر والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ اصول نجی اور سرکاری دونوں طرح کی گاڑیوں پر نافذ کیا گیا ہے۔

حکومت نے عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکسیوں اور دو پہیہ گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ فی الحال یہ نظام ریاستی شاہراہوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں اس کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد مزید توسیع پر غور کیا جا سکتا ہے۔ سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے کہا ہے کہ حکومت ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہفتہ اور اتوار کے دن نجی گاڑیوں پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی تاکہ عوام کو روزمرہ زندگی میں کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔

وزیر اعلیٰ حالیہ دنوں میں خود بھی عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے اور کئی تقریبات میں پیدل جاتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام کے سامنے ایک مثبت مثال پیش کرنا اور انہیں ایندھن کی بچت کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ ریاست میں اس فیصلے پر عوام کی جانب سے ملی جلی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ مقامی رہائشی کیشو سپکوٹا نے کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ علامتی طور پر اچھا ہے، لیکن سکم کی کم آبادی اور محدود تعداد میں گاڑیوں کے پیش نظر اس کا ملک کی مجموعی ایندھن کھپت پر زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکم کا بیشتر علاقہ پہاڑی اور دشوار گزار ہے، جہاں عوام کو سفر کے لیے ذاتی گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کئی افراد کو نئی پالیسی کے باعث مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب کئی شہریوں نے حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ مقامی باشندے ریمن چھیتری کا کہنا ہے کہ سکم ہمیشہ ماحولیات اور پائیدار ترقی سے متعلق اقدامات میں مثال قائم کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ قدم مستقبل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور اس سے عوام میں نظم و ضبط اور ایندھن کی بچت کے بارے میں شعور بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا خود عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنا لوگوں کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے۔ اس سے شہریوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ایندھن کے بحران اور ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سکم کی یہ پالیسی دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں توانائی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu