نئی دہلی: عالمی سطح پر جاری امریکہ-ایران کشیدگی اور توانائی کی منڈی میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کے اثرات اب بھارت میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں، ٹرانسپورٹ شعبے اور کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث ہوٹل، ریستوران اور دیگر تجارتی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 7.35 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے چار مختلف مراحل میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق 15 مئی کو پٹرول کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جبکہ 19 مئی اور 23 مئی کو بالترتیب 0.87، 0.87 پیسے فی لیٹر مزید اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد 25 مئی کو 2.61 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس سے مجموعی اضافہ 7.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نئی دہلی میں ڈیزل کی قیمت گزشتہ ایک ماہ کے دوران 87.67 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 95.20 روپے فی لیٹر ہو گئی، یعنی مجموعی طور پر 7.53 روپے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈیزل کی قیمت میں 15 مئی کو 3 روپے فی لیٹر، 19 اور 23 مئی کو 0.91، 0.91 پیسے فی لیٹر جبکہ 25 مئی کو 2.71 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یکم جون کو 19 کلوگرام والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں مزید 42 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی دہلی میں اس کی قیمت بڑھ کر 3,113.50 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جنوری میں دہلی میں 19 کلوگرام والے کمرشل سلنڈر کی قیمت 1,691.50 روپے تھی، جبکہ اب یہ 3,113.50 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح پانچ ماہ کے اندر قیمت میں 1,400 روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کاروباری طبقے کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ حالیہ اضافے کے باوجود بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں اب بھی نسبتاً کم ہیں۔ حکام کے مطابق کئی ترقی یافتہ معیشتوں میں پٹرول کی خوردہ قیمت 150 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بیشتر یورپی ممالک میں یہ قیمت 180 روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ یورپی یونین کے 27 ممالک میں پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 179 روپے اور ڈیزل کی اوسط قیمت 184 روپے فی لیٹر بتائی جاتی ہے۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک پاکستان اور نیپال میں بھی پٹرول کی قیمت 135 روپے فی لیٹر سے اوپر پہنچ چکی ہے، جبکہ سری لنکا، میانمار اور فلپائن میں بھی ایندھن کے نرخ 130 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہیں، جس کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت عالمی سطح پر ایک اہم معاشی چیلنج بن چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

