کئی دہائیوں تک دیر سے چلنے والی ٹرینیں، تاخیر کا شکار بسیں اور سرکاری دفاتر میں سست روی روزمرہ زندگی کا حصہ بنے رہے۔ شہریوں کو غیر یقینی صورتحال کے مطابق اپنی روزمرہ مصروفیات ترتیب دینا پڑتی تھیں۔ سرکاری دفاتر میں قطاریں گھنٹوں طویل ہوجاتی تھیں، جبکہ بعض درخواستوں کے حل میں کئی سال تک لگ جاتے تھے۔یہاں تک کہ قطار میں اپنی جگہ محفوظ رکھنے کے لیے لوگ اینٹ یا دیگر اشیا رکھ دیا کرتے تھے۔ اس طرح کے انتظامات کو لے کر تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ یہی رویہ میٹنگز، تقریبات اور اسکول اسمبلیوں تک پھیل گیا، جہاں اعلان کردہ وقت کے بعد پروگرام شروع ہونا عام بات سمجھی جاتی تھی۔ اسی پس منظر میں 'انڈین اسٹریچ آؤٹ ٹائم' جیسی طنزیہ اصطلاح بھی سامنے آئی، جو انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم پر ایک مزاحیہ تبصرہ تھا۔
'چلتا ہے' کے بجائے 'بدل سکتا ہے'
اسی ماحول میں وزیر اعظم مودی نے دہلی میٹرو اور نمو بھارت ریپڈ ریل کی 99.9 فیصد وقت کی پابندی کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ 'من کی بات' سے لے کر ای ٹی ورلڈ لیڈرز کانفرنس تک، وہ وقت کی پابندی کو نظم و ضبط، دوسروں کے احترام اور کارکردگی سے جوڑتے رہے ہیں۔ مودی کی تقریروں میں 'چلتا ہے' والی ذہنیت پر تنقید ایک اہم پیغام بن چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ 'بدل سکتا ہے' کا تصور پیش کرتے ہیں، یعنی برسوں سے قائم عادات اور طریقہ کار میں تبدیلی ممکن ہے۔
حکومتی نظام میں بھی وقت کی پابندی پر زور
حکومت کی متعدد پہل بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ 'مشن رفتار' کا مقصد ٹرینوں کی رفتار بڑھانا ہے، جبکہ PRAGATI یعنی 'پرو ایکٹو گورننس اینڈ ٹائملی امپلیمنٹیشن' کے ذریعے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اور عوامی شکایات کے حل پر توجہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح CPGRAMS کے ذریعے شہری آن لائن شکایات درج کرنے، ان کی پیش رفت دیکھنے اور ضرورت پڑنے پر انہیں اعلیٰ سطح تک پہنچانے کے قابل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری نظام میں تاخیر کم کرنا اور جواب دہی کو مضبوط بنانا ہے۔ یوں وقت کی پابندی محض ذاتی عادت نہیں رہ جاتی، بلکہ اسے بہتر حکمرانی، ترقی اور ادارہ جاتی کارکردگی کے پیمانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ 'چلتا ہے' سے 'بدل سکتا ہے' تک کا یہ سفر دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بروقت فیصلے اور کام کی تکمیل کسی بھی مؤثر نظام کی بنیادی ضرورت ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

