نئی دہلی :اطالوی کی وزیراعظم جارجیا میلونی ایک بار پھر عالمی خبروں میں چھا گئی ہیں، مگر اس بار وجہ کوئی سرکاری دورہ نہیں بلکہ ایک سادہ سیلفی ہے۔ اس تصویر میں وہ خوبصورت بھارتی جھمکے پہنے مسکراتی نظر آ رہی ہیں، جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ اس سیلفی کو محض فیشن نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس نے یورپ سے لے کر واشنگٹن تک بحث چھیڑ دی ہے۔جارجیا میلونی اپنی بے باک انداز اور سوشل میڈیا پر سرگرمی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کسی کا نام لیے بغیر ایک سخت پیغام دیا، جسے کئی لوگ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ "فطرتاً اقتدار کے پرچار کرنے والے نہ استحکام کا سبق دے سکتے ہیں اور نہ آزادی کا۔ ہمیں کوئی کنٹرول نہیں کرتا، ہمارا کوئی مالک نہیں اور ہم کسی کے حکم پر نہیں چلتے، ہمارا مقصد صرف اٹلی کا مفاد ہے۔"
ان کے اس بیان کو ان الزامات کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں کہا جاتا تھا کہ وہ بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے ایران سے متعلق ایک معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، تب ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور قرار دیا تھا۔ میلونی کا حالیہ بیان اسی تناظر میں ایک سخت ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ میلونی کا یہ پیغام صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ یورپی یونین کے بعض حلقوں اور داخلی اپوزیشن کے لیے بھی ہے، جو ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کی حکومت کسی "کٹ پتلی" کی طرح کام نہیں کرے گی۔اس سیلفی کا ایک اہم پہلو اس کا "انڈین کنکشن" بھی ہے۔ بھارتی جھمکے پہننا دراصل ثقافتی سفارتکاری یا سافٹ پاور کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا پر اس انداز کو خوب سراہا جا رہا ہے، جس سے میلونی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ "وائرل ڈپلومیسی" کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں ایک تصویر اور مختصر پیغام کے ذریعے عالمی سطح پر سیاسی مؤقف پیش کیا گیا۔ میلونی نے فیشن، جذبات اور سیاست کو یکجا کر کے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو نہ صرف ان کی خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ان کے مضبوط کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو

