ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پیر کی صبح ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ اسلامی بینک کے مرکزی دفتر کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن، آنسو گیس کے گولوں اور ساؤنڈ گرینیڈ کا استعمال کیا۔ فی الحال زخمی افراد کا علاج ڈھاکہ کے مختلف اسپتالوں میں جاری ہے جبکہ حکام صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
چیئرمین کی تقرری کے خلاف احتجاج
یہ احتجاج اسلامی بینک کے ناراض صارفین کی رابطہ کونسل اور اسلامی بینک صارفین فورم کے بینر تلے منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین بینک کے نئے چیئرمین کے طور پر مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر محمد خورشید عالم کی تقرری کی مخالفت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تقرری ''متنازع'' ہے اور انہیں کسی بھی صورت میں بینک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بنگلہ دیش کے معروف روزنامہ کے مطابق، مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی اور بینک کے نئے چیئرمین کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حال ہی میں رخصت پر بھیجے گئے منیجنگ ڈائریکٹر عمر فاروق خان کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔
پولیس کارروائی کے بعد حالات کشیدہ
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا تھا، جس کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا گیا، جس میں 10 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس نے واضح کیا کہ مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور حالات قابو سے باہر ہونے پر ہی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ فائرنگ کی گئی تھی۔
بہت زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام
احتجاج کے منتظمین نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ''بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال'' قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جمع شدہ سرمائے کے تحفظ کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ انہوں نے بینک میں مبینہ مالی بحران کا الزام بھی عائد کیا اور مرکزی بینک سے مطالبہ کیا کہ نئے چیئرمین کی تقرری منسوخ کی جائے۔
بھارت ایکسپریس۔

