راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ راگھو چڈھا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان جاری تنازع میں اب انڈین نیشنل کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی کی بھی انٹری ہو گئی ہے۔ پٹیالہ سے کانگریس کے ایم پی ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی نے ایک پوڈکاسٹ میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ پٹیالہ سے عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ تھے تو راگھو چڈھا نے انہیں ایک پرچہ دیا، جسے انہوں نے وہیں پھاڑ کر ان کے منہ پر پھینک دیا۔ راگھو چڈھا کو عام آدمی پارٹی نے 2 اپریل کو راجیہ سبھا میں نائب قائد کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ چڈھا کو پارٹی کے کوٹے سے وقت نہ دیا جائے۔ اس کے بعد راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کر کے پارٹی قیادت پر کئی سنگین الزامات عائد کیے۔
راگھو چڈھا کے منہ پر پرچہ پھینک دیا - ڈاکٹر گاندھی
کانگریس ایم پی ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی نے ایک نجی سوشل میڈیا چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے راگھو چڈھا کی دی ہوئی چٹھی کو پھاڑ کر ان کے منہ پر پھینک دیا اور 'گیٹ آؤٹ' کہتے ہوئے آئندہ کبھی بات نہ کرنے کی نصیحت بھی کی۔ راگھو چڈھا پر عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے سمجھوتہ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے اہم مسائل نہ اٹھا کر غیر ضروری معاملات کو ترجیح دی۔ اس پر راگھو چڈھا نے 5 اپریل کو ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ صرف ایک چھوٹا ٹریلر ہے، پوری تصویر ابھی باقی ہے۔''
چڈھا اور گاندھی کے درمیان کیا بات ہوئی؟
پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر دھرمویر گاندھی نے بتایا کہ سال 2014 میں صدر کے خطاب پر وہ پہلا خطاب دینے والے تھے۔ اسی دوران پنجاب بھون میں راگھو چڈھا ان سے ملنے آئے اور ایک چٹھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ''آپ کو کل یہی بولنا ہے''۔ اس پر گاندھی نے جواب دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں کیا بولنا ہے۔گاندھی نے مزید بتایا کہ راگھو چڈھا نے دوبارہ چٹھی دیتے ہوئے کہا کہ ''آپ کو یہی بولنا ہے"۔ اس پر انہوں نے کہا "ہو آر یو؟ میں یہاں 45 سال سے ہوں۔ 1975 میں جیل گیا، 1970 سے سیاست میں ہوں اور تم مجھے بتاؤ گے کہ مجھے کیا بولنا ہے؟''
اس پر راگھو چڈھا نے کہا کہ ''آپ پارٹی کے نیشنل لیڈر اور نیشنل ترجمان ہیں''۔ گاندھی کے مطابق، انہوں نے چٹھی لے کر دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ آخر انہیں کیا بولنے کو کہا جا رہا ہے۔
چٹھی میں یہ مطالبات تھے
ڈاکٹر دھرمویر گاندھی نے بتایا کہ چٹھی میں چاروں نکات دہلی سے متعلق تھے، جن میں بجلی اور پانی کے مسائل شامل تھے۔ یہ دیکھ کر وہ ناراض ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے غزہ پٹی پر بات کریں گے، پھر اتر پردیش کے بدایوں ریپ کیس پر، اس کے بعد پنجاب کے قرض، منشیات اور زراعت کے مسائل پر بات کریں گے۔ اس کے بعد ہی وہ دہلی سے متعلق کسی ایک مطالبے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ ادھر راگھو چڈھا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان تلخیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ راگھو چڈھا نے ایک نئی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ''پنجاب میرا گھر، میری مٹی اور میری روح ہے۔ میرے لیے پنجاب کوئی موضوع نہیں ہے۔ یہ تو ابھی شروعات ہے، پوری تصویر ابھی باقی ہے۔''
بھارت ایکسپریس اردو۔

