نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے طلبہ سے ملاقات کی اور حالیہ نتائج سے متعلق تنازع پر ان سے تفصیلی گفتگو کی۔ طلبہ نے راہل گاندھی کو اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے سوشل میڈیا پر اس مسئلے کو اٹھایا تو انہیں شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض افراد نے انہیں ملک دشمن، غدار اور یہاں تک کہ پاکستان بھی کہا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی
طلبہ کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا، ''میرے ساتھی 'ملک مخالف سوروس ایجنٹوں' کے ساتھ ایک انکشاف کرنے والا ویڈیو۔ ویدانت اور اس کے دوست باصلاحیت اور بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں، جنہوں نے سی بی ایس ای اور مودی حکومت سے چند سادہ سوالات پوچھے، لیکن جواب دینے کے بجائے انہیں بے عزتی ملی۔ وہ ایک روشن اور محفوظ مستقبل کے مستحق ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انہیں یہ حاصل ہو۔''
طلبہ نے ٹرولنگ کے بیان کیے تجربات
ویڈیو میں ایک طالب علم نے بتایا، ''لوگوں نے مجھے غدار، پاکستانی اور ڈیپ اسٹیٹ کا ایجنٹ تک قرار دیا۔'' ایک اور طالب علم نے کہا کہ جب اس نے اپنی فزکس کی جوابی کاپی دیکھی تو اسے محسوس ہوا کہ امتحان اچھا ہوا تھا، لیکن نمبر توقع کے مطابق نہیں آئے۔ اس نے اپنی جوابی کاپی طلب کی، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ جو کاپی اسے دکھائی گئی وہ دراصل اس کی تھی ہی نہیں۔
سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کے بعد تنازع
طالب علم کے مطابق اس نے یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اٹھایا، جہاں اسے کافی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ تاہم جب اس کے حق میں بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے تو بعض حلقوں نے انہیں 'ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ' اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دینا شروع کر دیا۔ کچھ لوگوں نے انہیں امریکی سرمایہ کار جارج سوروس کا ایجنٹ بھی کہا۔
راہل گاندھی کا ردعمل
اس پر راہل گاندھی نے کہا، ''بیچ میں سوروس آ گیا، پاکستان بھی آ گیا، ہر کوئی آ گیا۔ یہ تو پاگل پن ہے۔ تم لوگوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ تم صرف طالب علم ہو اور اپنی جوابی کاپی مانگ رہے ہو، لیکن پھر بھی تمہیں غدار کہا جا رہا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا، ''مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کے بجائے طلبہ کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔''
بھارت ایکسپریس۔

