نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد جہاں ایک جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تاریخی جیت کا جشن منایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب کانگریس کے اندرونی حالات کو لے کر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کی شکست پر کانگریس کے بعض حلقوں میں خوشی کی خبریں سامنے آنے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ انتخابی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 207 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ ترنمول کانگریس کو صرف 80 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس طرح تقریباً 15 سال سے جاری ٹی ایم سی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
ان نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آسام اور مغربی بنگال کے انتخابی نتائج دراصل جمہوریت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ملک میں جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس صورتحال میں چھوٹی سیاسی سوچ کو ایک طرف رکھ کر بڑے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ اگر کانگریس اور ٹی ایم سی ایک ہی اپوزیشن اتحاد کا حصہ رہے ہیں، تو پھر ٹی ایم سی کی شکست پر کانگریس کے کچھ رہنماؤں کی خوشی کس بات کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کانگریس کے اندرونی اختلافات اور سیاسی حکمت عملی میں تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے اپنی شکست کے بعد انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کئی نشستیں غیر منصفانہ طریقے سے حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 100 نشستوں پر نتائج مشکوک ہیں اور اس حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ممتا بنرجی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال دونوں میں انتخابات شفاف نہیں تھے، اور اس عمل میں الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مغربی بنگال کے نتائج نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ کانگریس کے اندر جاری اختلافات اور بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

