Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Russia-Ukraine War: ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون، روس کا یوکرین پر شدید حملہ، ملبے کا ڈھیر بن گئیں متعدد عمارتیں

Russia-Ukraine War: ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون، روس کا یوکرین پر شدید حملہ، ملبے کا ڈھیر بن گئیں متعدد عمارتیں

Bharat Express 3 weeks ago

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روس نے منگل کی شب یوکرین کے مختلف شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کیو، نپرو اور دیگر اہم شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں، سرکاری دفاتر اور عوامی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق روسی حملے سے چند روز قبل یوکرین نے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں واقع ایک ہاسٹل پر ڈرون حملہ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ماسکو نے سخت ردعمل اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ منگل کی شب ہونے والے حملوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جن میں درجنوں میزائلوں اور سیکڑوں ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق کیو میں زوردار دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دھوئیں کے گھنے بادل آسمان پر چھا گئے۔ شہر کے میئر نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین بچوں سمیت ساٹھ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کئی عمارتوں کو تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک مقامی خاتون اولہا مودرا، جو حملے کے وقت اپنی چھ سالہ بیٹی کے ساتھ موجود تھیں، نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے قیامت آ گئی ہو۔ ان کے مطابق ہر طرف دھول، دھواں اور ملبہ پھیلا ہوا تھا اور کچھ بھی واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جنوب مشرقی شہر نپرو میں بھی حملے کے سنگین اثرات سامنے آئے، جہاں ایک چار منزلہ رہائشی عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ مقامی حکام کے مطابق اس واقعے میں دو بچوں سمیت بارہ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ متعدد دیگر عمارتیں بھی متاثر ہوئیں جبکہ بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہو گئی۔ یوکرینی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرون اور 73 میزائل داغے، جن میں 33 بیلسٹک اور آٹھ زیرکون ہائپر سونک میزائل شامل تھے۔ فضائی دفاعی نظام نے 602 ڈرون اور 40 میزائل تباہ یا ناکارہ بنا دیے۔ یوکرین نے امریکہ سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی مزید فراہمی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

دوسری جانب کریملن نے کہا ہے کہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور روس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق حملوں میں یوکرین کی دفاعی صنعت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ادھر روس کے اندر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کراسنوڈار کے علاقے میں واقع ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی جبکہ بیلگوروڈ میں ایک ڈرون حملے میں گیارہ سالہ لڑکا زخمی ہوا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر نیٹو رکن پولینڈ نے بھی اپنے فضائی دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں، جس سے خطے میں مزید تناؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu