Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Supreme Court New Judge List: سپریم کورٹ کو ملے  پانچ نئے جج، صدر جمہوریہ نے تقرریوں کی دی منظوری، عدالتی نظام کو ملے گی مزید مضبوطی

Supreme Court New Judge List: سپریم کورٹ کو ملے پانچ نئے جج، صدر جمہوریہ نے تقرریوں کی دی منظوری، عدالتی نظام کو ملے گی مزید مضبوطی

Bharat Express 3 weeks ago

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پانچ نئے ججوں کی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد مرکزی وزارت قانون و انصاف نے پیر کو اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ان تقرریوں کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو تجربہ کار ججوں اور ممتاز قانونی ماہرین کی خدمات حاصل ہوں گی، جس سے زیر التوا مقدمات کے نمٹارے اور عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔سپریم کورٹ میں مقرر کیے گئے نئے ججوں میں سینئر وکیل وی موہنا، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شری چندر شیکھر، پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شیل ناگو، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سنجیو سچدیوا اور جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ارون پلی شامل ہیں۔ان ناموں کی سفارش حال ہی میں سپریم کورٹ کے کولیجیم نے کی تھی۔ کولیجیم کی سفارشات پر غور کے بعد مرکزی حکومت نے ان تقرریوں کو منظوری دی، جس کے بعد وزارت قانون نے سرکاری اعلامیہ جاری کر دیا۔ اب یہ تمام جج سپریم کورٹ میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

وی موہنا نے تاریخ رقم کر دی

نئی تقرریوں میں سب سے زیادہ توجہ سینئر ایڈووکیٹ وی موہنا کی تقرری نے حاصل کی ہے۔ وہ بار سے براہِ راست سپریم کورٹ کی جج مقرر ہونے والی گیارہویں شخصیت بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کے بعد وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دوسری خاتون بھی ہیں۔وی موہنا سپریم کورٹ میں طویل عرصے سے وکالت کر رہی ہیں اور کئی اہم مقدمات میں اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ بھارتی فوج میں خواتین افسران کو مستقل کمیشن (Permanent Commission) دینے سے متعلق تاریخی مقدمے میں اہم قانونی کردار ادا کرنے والی وکلاء میں شامل رہی ہیں۔

جسٹس شیل ناگو کون ہیں؟

جسٹس شیل ناگواس وقت پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، جب کہ ان کا بنیادی عدالتی پس منظر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے وابستہ رہا ہے۔ وہ حال ہی میں جسٹس یشونت ورما سے متعلق مبینہ نقدی تنازعے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی ان ہاؤس کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

دیگر ججوں کا عدالتی تجربہ

جسٹس شری چندر شیکھر اس وقت بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور اس سے قبل جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسی طرح جسٹس سنجیو سچدیوا، جو فی الحال مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، بنیادی طور پر دہلی ہائی کورٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور طویل عدالتی تجربہ رکھتے ہیں۔دوسری جانب جسٹس ارون پلی جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ ان کا تعلق بھی پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ سے رہا ہے۔ 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے بعد قائم ہونے والے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی قیادت میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

عدالتی نظام کو ملے گی مزید مضبوطی

حال ہی میں سپریم کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد نئی تقرریوں کا عمل شروع ہوا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان تقرریوں سے نہ صرف عدالت عظمیٰ کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا بلکہ مختلف ریاستوں اور عدالتی پس منظر رکھنے والے ججوں کی شمولیت سے عدالتی نظام کو متنوع تجربات اور قانونی مہارتوں کا فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ان پانچ نئی تقرریوں کے بعد سپریم کورٹ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد نمٹارے کی سمت میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu