Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Trump Remarks on Netanyahu: 'نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے.' بھرے مجمع میں اسرائیل پر ٹرمپ کا سخت بیان

Trump Remarks on Netanyahu: 'نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے.' بھرے مجمع میں اسرائیل پر ٹرمپ کا سخت بیان

Bharat Express 1 week ago

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ایکسِیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بارے میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں اور ''اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے''۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو کیا فون

اس ممکنہ ملاقات کی بنیاد اس وقت پڑی جب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد دینے کے لیے فون کیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے امریکہ کو دنیا میں آزادی کا سب سے بڑا محافظ قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط اور ناگزیر بتایا۔ اسی رابطے میں انہوں نے صدر ٹرمپ سے ذاتی ملاقات کی درخواست بھی کی، جس پر دونوں لیڈروں نے اصولی اتفاق کیا۔

ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات نیٹو سربراہی اجلاس کے فوراً بعد اگلے یا اس سے اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہو سکتی ہے، تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مصروف شیڈول کے باعث ملاقات میں معمولی تاخیر بھی ممکن ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں بڑھتی خلیج

سیاسی مبصرین کے مطابق فروری میں ہونے والی آخری ملاقات کے بعد دونوں لیڈروں کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس وقت ایران کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا تھا، لیکن جنگ کے بعد کی صورتحال، ایران کے ساتھ جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کی بحالی جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو نے جنگ سے متعلق کئی اہم فیصلوں میں غلطیاں کیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے تحفظات کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور نئے جوہری مذاکرات کی حمایت کی، جس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل پر لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے اور جنوبی لبنان سے فوج واپس بلانے پر بھی زور دیا، جس پر اسرائیل میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

خامنہ ای کے جنازے کی بھیڑ دیکھ کر ٹرمپ حیران

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری جوہری مذاکرات میں خامنہ ای کے جنازے کے باعث ایک ہفتے کا وقفہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنازے میں شریک لاکھوں افراد کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے، کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کے اتنے حامی نہیں تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ شاید یہ غم 'حقیقی نہ ہو'۔

نیتن یاہو کے لیے سیاسی ساکھ بچانے کا اہم امتحان

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا یہ متوقع دورہ بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل میں آئندہ اکتوبر میں عام انتخابات متوقع ہیں اور مختلف رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مخالفین سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ جنگ کے باعث معیشت اور سکیورٹی پر پڑنے والے اثرات نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی اہم سفارتی پیش رفت میں کامیاب نہ ہو سکے یا امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئے تو اس کے ان کی داخلی سیاسی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی ممکنہ ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu