Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
UNSC Emergency Meeting at France's Request: فرانس کی اپیل پر سلامتی کونسل نے طلب کیا ہنگامی اجلاس، لبنان میں جاری جنگ اور بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی قبضے پر ہوگی بحث

UNSC Emergency Meeting at France's Request: فرانس کی اپیل پر سلامتی کونسل نے طلب کیا ہنگامی اجلاس، لبنان میں جاری جنگ اور بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی قبضے پر ہوگی بحث

Bharat Express 3 weeks ago

پیرس: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز لبنان میں جاری لڑائی پر غور کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے۔ یہ اجلاس فرانس کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔

میکرون کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں ہے۔ انہوں نے فریقین سے فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کی اپیل بھی کی۔ اس سے قبل فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بارو نے بھی سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی قبضے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا سخت موقف

فرانسیسی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بارو نے کہا، ''میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔ ہم اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ ہر ملک کو حاصل ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا تسلسل اور لبنانی علاقوں پر اس کا بڑھتا ہوا قبضہ کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔''

جنگ میں کیسے شامل ہوا لبنان؟

لبنان 2 مارچ کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے۔ یہ حملے 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردِعمل میں کیے گئے تھے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔

جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 17 اپریل کو جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، لیکن یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ دونوں فریق روزانہ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں اور اپنی کارروائیوں کو مخالف فریق کی اشتعال انگیزی کا جواب قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل کی کارروائیوں میں شدت

ہفتے کے اختتام پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ لبنان کے اندر مزید گہرائی تک فوجی کارروائیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے اتوار کو ہونے والی کارروائی کو فوجی مہم میں ''بڑی تبدیلی'' قرار دیا۔ پیر کے روز نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا۔

حزب اللہ پر جنگ بندی توڑنے کا الزام

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق حزب اللہ مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث جوابی کارروائی ضروری ہو گئی ہے۔

امریکی سفارتی کوششیں جاری

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اتوار کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے الگ الگ گفتگو کی۔ اس دوران جاری سفارتی کوششوں اور تنازع کے حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ حزب اللہ اپنے حملے بند کرے۔

عالمی توجہ سلامتی کونسل کے اجلاس پر مرکوز

فرانس کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس اجلاس پر مرکوز ہیں کہ یہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر راستہ نکال پاتا ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu