سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو مسلسل مبینہ چندہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھا رہے ہیں اور بی جے پی سے جواب طلب کر رہے ہیں۔ 19 اگست کو بھی انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے مبینہ مندر چندہ چوری سمیت دیگر معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔یہ معاملہ جون 2026 میں اس وقت سیاسی تنازع بنا جب اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ رام مندر کو ملنے والے عطیات میں کروڑوں روپے غائب ہیں اور حکومت کی خاموشی مشکوک ہے۔
بعد میں اتر پردیش حکومت نے ٹرسٹ کی درخواست پر تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی۔ اب اس معاملے میں ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے، جس میں بعض اہم افراد، جن میں چمپت رائے اور انل مشرا کے نام شامل ہیں، کے خلاف کسی غلط کاری کے شواہد نہ ملنے کی بات سامنے آئی ہے۔اس کے باوجود اکھلیش یادو اس معاملے کو سیاسی طور پر مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ ان کا بنیادی سوال شفافیت، جواب دہی اور عقیدت مندوں کے چندے کے استعمال سے متعلق ہے۔ ان کی پارٹی نے پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
کیا ہندو ووٹوں پر اثر پڑے گا؟
اصل سیاسی امتحان یہی ہے۔ بی جے پی کے لیے رام مندر صرف ایک انتخابی موضوع نہیں بلکہ طویل عرصے سے اس کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسے میں مندر سے متعلق چندے کےالزامات کو اٹھاکر اکھلیش یادو بی جے پی کو اس کے مضبوط سمجھے جانے والے سیاسی میدان میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ حکمت عملی اکھلیش کے لیے فائدہ مند ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار عوام کے درمیان اس معاملے کی گونج اور 2027 تک دیگر انتخابی مسائل پر ہوگا۔ رام مندر سے جڑی جذباتی سیاست میں بی جے پی کو براہ راست چیلنج کرنا ایس پی کے لیے آسان امتحان نہیں ہوگا۔
اکھلیش یادو کی کوششیں
دوسری طرف، اگر اکھلیش اس معاملے کو محض مذہبی تنازع کے بجائے شفافیت، عقیدت مندوں کے چندے اور احتساب کے سوال کے طور پر عوام کے سامنے رکھتے ہیں، تو یہ بی جے پی حکومت کے لیے ایک اضافی سیاسی دفاعی محاذ ضرور کھول سکتا ہے۔ لیکن 2027 کے انتخابی نتائج کا فیصلہ صرف 'چندہ چوری' کے معاملے سے نہیں ہوگا۔ مہنگائی، روزگار، امن و قانون، کسان، ذات پر مبنی سیاست اور مقامی مسائل بھی ووٹروں کے فیصلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

