تہران: ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی انتظامیہ کی مبینہ بحری ناکہ بندی کی حکمتِ عملی کو ناکام اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ ایران پر دباؤ بڑھے گا اور نہ ہی خطے میں استحکام آئے گا، بلکہ خلیج فارس میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔
ایرانی صدر کا سخت موقف
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی سمندری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور 'ناکام ہو کر ہی رہے گی'۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں اور دیرپا امن کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پرشین گلف نیشنل ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے خلیج فارس کو ایرانیوں کی قومی شناخت کا لازمی حصہ اور ملک کی خودمختاری کی علامت قرار دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کا ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات پر طنز کرتے ہوئے کہا، ''تین دن گزر گئے، کوئی تیل کا کنواں نہیں پھٹا، اسے 30 دن تک بڑھا کر لائیو بھی دکھایا جا سکتا ہے۔'' انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی انتظامیہ کو غلط مشورے دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
امریکی دعوے اور وارننگ
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ایران کا تیل کا نظام 'تین دن میں تباہ ہو سکتا ہے'۔ دوسری جانب اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکی 'بلاکڈ' کے باعث ایران کی تیل پیداوار بند ہونے کے قریب ہے اور جلد ہی پیٹرول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اہم عالمی گزرگاہ: آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، اکثر اس علاقے میں تنازعات کا باعث بنتی رہی ہے۔ بحری ناکہ بندی نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی تیل سپلائی اور تجارت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔

