آسٹریلیا کے معروف اوپننگ بلے باز عثمان خواجہ نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایک جذباتی پریس کانفرنس میں آسٹریلیائی کرکٹ اور میڈیا میں موجود نسل پرستانہ رویوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ عثمان خواجہ نے کہا کہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والی آخری ایشز سیریز ان کا آسٹریلیا کے لیے آخری بین الاقوامی مقابلہ ہوگا، جس کے بعد وہ کرکٹ کو الوداع کہہ دیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے اعلان کے ساتھ ہی عثمان خواجہ نے اپنے کیریئر کے دوران پیش آنے والے تلخ تجربات کا بھی کھل کر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ انجری کا شکار ہوئے، آسٹریلیائی میڈیا اور چند سابق کھلاڑیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ انہیں بار بار "خود غرض"، "پاکستانی"، "ویسٹ انڈین ذہنیت والا" اور ٹیم کے لیے غیر مخلص قرار دیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ خواجہ نے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی اس طرح کے الزامات اور تنقید برداشت کی۔
انہوں نے ان تبصروں کو نہ صرف تکلیف دہ بلکہ خطرناک بھی قرار دیا۔ عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک ان کے پاکستانی پس منظر اور مسلمان شناخت کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر انہیں صرف اس لیے مختلف نظروں سے دیکھا گیا کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ خواجہ نے انکشاف کیا کہ ایک انجری کے دوران مسلسل پانچ دن تک ان پر تنقید کی گئی اور انہیں سست، غیر ذمہ دار اور ٹیم سے کٹا ہوا کھلاڑی قرار دیا گیا، جو دراصل نسل پرستی کی ہی ایک شکل تھی۔
پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیلنے کے معاملے پر ہونے والی تنقید پر بھی عثمان خواجہ نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ انجری کا الزام ان کے گولف کھیلنے پر ڈال دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ درجنوں کھلاڑی میچ سے قبل گولف کھیلتے ہیں اور اگر وہ زخمی ہو جائیں تو کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی میچ سے پہلے پندرہ بوتل بیئر پی لے تو اسے "آسٹریلین لیریکنس" کہہ کر سراہا جاتا ہے، لیکن اگر عثمان خواجہ کچھ مختلف کریں تو اسے مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ان کے ساتھ ان کی اہلیہ، بچے اور خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ عثمان خواجہ نے کہا کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خاندان سے مشاورت کے بعد لیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اب ذہنی سکون چاہتے ہیں اور ایک ایسے ماحول سے دور جانا چاہتے ہیں جہاں بار بار ان کی شناخت کو نشانہ بنایا گیا۔ عثمان خواجہ کے ان بیانات نے آسٹریلیائی کرکٹ میں مساوات، شمولیت اور نسل پرستی کے موضوع پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو

