اسلام آباد: پاکستان کے شہر کراچی میں جاری پانی کے بحران کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر اچانک بجلی کی بندش کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس صورتحال نے پہلے سے موجود پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر تکنیکی خرابی
کراچی میں پانی کی شدید قلت کا بحران مسلسل دوسرے ماہ بھی جاری ہے، جس کے باعث شہری پانی کے ٹینکروں اور نجی سپلائرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ہفتہ کے روز کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے ایک بیان میں کہا کہ کے-الیکٹرک نے انہیں اطلاع دی کہ دھابیجی گرڈ اسٹیشن کے ایک ٹرانسفارمر میں بڑی تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں شام ساڑھے چھ بجے ہنگامی شٹ ڈاؤن کرنا پڑا۔
کب بحال ہوگی پانی کی فراہمی؟
کارپوریشن کی جانب سے جاری بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شہر میں معمول کے مطابق پانی کی فراہمی کب تک بحال ہو سکے گی۔ بیان کے مطابق، ''بجلی کی بندش کے باعث دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس بند ہوگئیں، جس سے شہر کے آبی نظام پر شدید اثر پڑا اور کئی علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہوگئی۔''
کے-الیکٹرک سے مسلسل رابطہ
کے ڈبلیو ایس سی نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر کے-الیکٹرک نے بجلی کی بندش کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ بتایا تھا، تاہم اب تک مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا۔ ادارے کے مطابق وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے کے-الیکٹرک حکام سے رابطے میں ہیں۔
عید کے موقع پر بھی پانی کی قلت
عید کے دنوں میں بھی کراچی کے شہریوں کو مذہبی غسل، قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی جیسے ضروری امور کے لیے پانی خریدنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عید، رمضان اور محرم جیسے اہم مواقع پر پانی کی قلت اب ایک افسوسناک روایت بنتی جا رہی ہے۔
مارچ سے جاری ہے پانی کا بحران
رپورٹس کے مطابق مارچ سے کراچی میں پانی کی فراہمی مختلف وجوہات کی بنا پر متاثر ہے، جن میں پائپ لائنوں کا پھٹ جانا، زیرِ زمین رساؤ، پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی خرابی اور مرکزی واٹر لائنوں کو نقصان پہنچنا شامل ہے۔ کے ڈبلیو ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی کا کہنا ہے کہ عید کے دوران معمول کے مطابق پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم بار بار بجلی کی خرابیوں اور کے-الیکٹرک کے مسائل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ٹینکروں کی قیمتیں ہو گئیں دوگنی
شہر کے کئی علاقوں میں ہفتوں سے جبکہ بعض مقامات پر دو ماہ سے زائد عرصے سے پانی کی سپلائی متاثر ہے۔ اس کے باعث لوگ پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، لیکن محدود دستیابی کی وجہ سے اکثر شہریوں کو ٹینکر حاصل کرنے کے لیے 7 سے 10 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کے ٹینکروں کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، جس کے باعث بہت سے خاندان انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
سندھ اسمبلی میں کیا گیا احتجاج
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پاکستان) کے ارکانِ اسمبلی نے سندھ اسمبلی میں کراچی کے پانی کے بحران کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے عیدالاضحیٰ سے قبل پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور 'کراچی کو پانی دو' کے نعرے لگائے۔
اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے
قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی کا ہر شہری پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہا ہے جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آ رہا اور وہ خود بھی دو دن تک پانی کا ٹینکر حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اس کے جواب میں سندھ کے وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ کراچی میں کے-فور (K-IV) منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم-پاکستان وفاقی حکومت کا حصہ ہے اور اسے اس منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے مرکز پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔

