نئی دہلی: بنگال سے ممتا بنرجی کا 15 سالہ دورختم ہوگیا ہے اوربی جے پی نے شاندارجیت حاصل کرکے ریکارڈ بنایا ہے۔ بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کوبھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پرجیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔ 294 سیٹوں والی ریاست میں بی جے پی اپنے دم پراب حکومت بنانے جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے آج ووٹوں کی گنتی کے دوران بھی الیکشن کمیشن پربڑا الزام لگایا۔ ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے لئے کام کرنے کا الزام لگایا۔ حالانکہ بی جے پی کی تیاری سے بنگال میں ممتا بنرجی کا پورا کھیل خراب ہوگیا۔ ایک طرف وزیراعظم مودی، وزیراعلیٰ امت شاہ نے بنگال میں جم کرمحنت کی تودوسری طرف کبھی ممتا بنرجی کے خاص رہے شوبھندو ادھیکاری نے پوری ریاست میں ممتا بنرجی کے خلاف ابھیان چلانے میں اہم رول ادا کیا۔ ممتا بنرجی کے قریبی رہے ہمایوں کبیرنے بھی ان کا کھیل خراب کیا۔ حالانکہ ان کی پارٹی کوئی بڑی جیت حاصل نہیں کرپائی۔ ممتا بنرجی سرکارکے لکشمی بھنڈاراسکیم کومضبوط سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کا بہت زیادہ اثرنہیں ہوا۔ بی جے پی نے خواتین کو3000 روپئے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ ایس آئی آربھی اس الیکشن میں ایک بڑا فیکٹرثابت ہوا، جس کے تحت تقریباً 90 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹرلسٹ سے ہٹائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے ریاست میں 2 لاکھ 40 ہزارسے زیادہ فوجی اہلکارتعینات کیے، جو2021 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھے۔ اس سخت سکیورٹی بندوبست نے بی جے پی کے مطابق ووٹروں کوبلا خوف ووٹنگ کا موقع فراہم کی۔
آپ کو بتا دیں کہ پی ایم مودی کی قیادت میں بی جے پی نے ریاست بھرمیں بھرپورانتخابی مہم چلائی۔ پی ایم مودی نے ترقی، قانون اوربدعنوانی جیسے مسائل کوزوردے کراٹھایا۔ پارٹی نے''ڈبل انجن سرکار'' کا نعرہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزاورریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ترقی کوتیزکرے گی۔ ساتھ ہی ایک کروڑروزگاراورصنعتی ترقی کے وعدوں نے نوجوان ووٹروں کومتاثرکیا۔ بی جے پی نے اس باراپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے مقامی زبانوں اورعلاقائی شناخت کوبھی اہمیت دی۔ اس کا بھی اسے کافی فائدہ ہوا۔ بنگال میں ٹی ایم سی کی ہار اپوزیشن الائنس کے لیے ایک بڑاجھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی، جوخود کوقومی سطح پربی جے پی کے خلاف ایک مضبوط چہرہ پیش کررہی تھیں، اب ان کے لئے ہی کافی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔ بنگال اسمبلی کا نتیجہ 2029 کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے اپوزیشن کے لیے ایک واضح اوربڑے پیغام کے طورپردیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بی جے پی نے نہ صرف قومی بلکہ ریاستی سطح پربھی اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ بی جے پی نے بنگال کی جنتا سے جو وعدے کئے ہیں، اسے وہ کس حد تک پورا کرتی ہے، لیکن اس نے بڑی جیت حاصل کی ہے اوراب بنگال میں پہلی باربی جے پی کی حکومت بنے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-

