مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی ٹوٹ سے متعلق معطل لیڈرریجو دتہ نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کے 50 اراکین اسمبلی نے میٹنگ کی ہے اور یہ اراکین اسمبلی انتخابی نشان پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ریجو دتہ نے کہا کہ ٹی ایم سی کے دو اراکین اسمبلی رتبرتا بنرجی اورسندیپن ساہا نے اسمبلی اسپیکرکو خط لکھ کردعویٰ کیا کہ ان کے دستخط فرضی ہیں۔ اس کے بعد ٹی ایم سی نے ان دونوں اراکین اسمبلی کو معطل کردیا۔
معطل لیڈرریجو دتہ نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے کئی سالوں تک ترنمول کانگریس میں کام کیا ہے، اس لئے مجھے خبرملی اورکنال گھوش نے بھی پریس میں بتایا کہ رتبرتا بنرجی کی قیادت میں تقریباً 50 ٹی ایم سی اراکین اسمبلی ایک ہوٹل میں ملے۔ انہوں نے فون پربھی بات کی اورشام کوایم ایل اے ہاسٹل میں کئی اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی۔ آج دوپہرتقریباً 2 بجے وہ متحد ہو کراسمبلی اسپیکرسے ملاقات کریں گے اورتین اہم موضوعات کو اٹھائیں گے۔
ٹی ایم سے معطل ترجمان نے کہا کہ پہلی بات ہمارے پاس دوتہائی اکثریت ہے۔ تقریباً 50 اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم اصلی ترنمول کانگریس ہیں۔ دوسرا چونکہ ہم اصلی ترنمول کانگریس ہیں، اس لئے اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی ہوں گے نہ کہ شوبھن دیب چٹوپادھیائے۔ تیسرا ہمارے پاس دوتہائی اکثریت ہے، اس لئے یہ انتخابی نشان ہمارا ہوگا۔
ابھیشیک-ممتا بنرجی کو لینی ہوگی ذمہ داری: ریجودتہ
ریجودتہ نے کہا کہ میں دو بہت اہم باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات ابھیشیک بنرجی کوذمہ داری لینی ہوگی، جن لوگوں کوابھیشیک بنرجی نے ہاتھ پکڑکرپارٹی میں شامل کرایا، انہوں نے پارٹی کو دھوکہ دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی لیڈرممتا بنرجی کوبھی اس کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ جو میں نے 8 اور9 تاریخ کوکہا تھا، آج وہ وہی بات کہہ رہے ہیں۔ وہ آئی-پی اے سی سے ناراض ہیں۔ وہ ابھیشیک بنرجی سے ناراض ہیں۔
بنگال میں ٹی ایم سی کے 2 اراکین معطل
بنگال میں ٹی ایم سی کی ٹوٹ کی خبروں نے زوراس لئے پکڑا کیونکہ ممتا بنرجی نے پیرکے روزدواراکین اسمبلی رتبرتا بنرجی اورسندیپن ساہا کومعطل کردیا۔ کل ہی ایک ہوٹل میں 6 اراکین اسمبلی ملے تھے، جہاں دوباغی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔ باغی اراکین اسمبلی رتبرتا بنرجی کوہی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈربنانا چاہتے ہیں جبکہ ممتا بنرجی نے اپنے قریبی شوبھن دیب چٹوپادھیائے کواپوزیشن لیڈربنایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-

