Dailyhunt
بھارت میں چینی کی پیدوار کم کیوں؟

بھارت میں چینی کی پیدوار کم کیوں؟

DW Urdu 3 weeks ago
بھارت میں چینی کی پیداوار مسلسل دوسرے سال ملکی کھپت سے کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ گنے کی کم پیداوار کے باعث شوگر ملیں معمول سے پہلے بند ہو رہی ہیں۔کم پیداوار اور بڑھتی ہوئی برآمدات کے باعث ملک میں چینی کے ذخائر میں کمی متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر قیمتوں کو سہارا ملے گا۔ اس سے قبل اضافی سپلائی کے باعث قیمتیں مسلسل دباؤ کا شکار تھیں۔ ممبئی میں قائم ایک عالمی تجارتی ادارے کے سربراہ کے مطابق،''اس سیزن میں چینی کی پیداوار 28 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ زیادہ تر شوگر ملیں بند ہو چکی ہیں اور باقی بھی آئندہ چند ہفتوں میں بند ہو جائیں گی۔'' سیزن کے آغاز پر انڈین شوگر اینڈ بائیو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ISMA) اور نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز (NFCSF) نے تقریباً 31 ملین ٹن پیداوار کا اندازہ لگایا تھا، جبکہ مقامی طلب 28.5 سے 29 ملین ٹن کے درمیان تھی۔ تاہم شدید بارشوں کے باعث گنے کی پیداوار متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں اس سال کام شروع کرنے والی 541 میں سے 467 شوگر ملیں مارچ کے آخر تک بند ہو چکی تھیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 420 ملیں بند ہوئی تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کی شوگر ملوں نےپچھلے ایک سال کے پہلے نصف میں 27.12 ملین ٹن چینی پیدا کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نو فیصد زیادہ ہے، مگر مجموعی سیزن کے لیے یہ مقدار ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔ چینی کی پیداوار کے اعتبار سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست مہاراشٹر اور چینی کی پیدوار کے اعتبار سے تیسری ریاست کرناٹک، میں تقریباً تمام شوگر ملیں توقع سے پہلے بند ہو چکی ہیں۔ روئٹرز نے نئی دہلی میں ایک تجارتی ماہر کے حوالے سے لکھا ہے، ''حکومت نے اضافی پیداوار کی توقع میں برآمدات کی اجازت دی، لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ پیداوار ملکی ضروریات کو بھی پورا نہیں کر سکے گی۔'' فروری میں بھارت نے چینی کی برآمدات کا کوٹا بڑھا کر دو ملین ٹن کر دیا تھا، جو پہلے منظور شدہ 1.5 ملین ٹن سے 500,000 ٹن زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ سال پیداوار میں کمی کے بعد اس سیزن سے توقع تھی کہ ذخائر میں اضافہ ہوگا، مگر کم پیداوار کے باعث اگلے سیزن کے آغاز پر ذخائر 5 ملین ٹن کے بجائے 4 ملین ٹن سے بھی کم رہیں گے۔ ان حالات کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جو اس شعبے میں مارکیٹ کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بھارت میں کم پیداوار، قبل از وقت بند ہوتی شوگر ملیں اور بڑھتی برآمدات چینی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ آنے والے سیزن میں ذخائر مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu