Dailyhunt
بھارت میں نوجوانوں پر شادی سے پہلے وزن کم کرنے کا جنون سوار

بھارت میں نوجوانوں پر شادی سے پہلے وزن کم کرنے کا جنون سوار

DW Urdu 3 weeks ago
بھارت میں جن جوڑوں کی شادی ہونے والی ہے وہ باقی تیاریوں کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے کے شارٹ کٹ بھی تلاش کر رہے ہیں۔ اس ٹرینڈ نے وزن گھٹانے والی سستی ادویات کے کاروبار کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔بھارت میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے دلہا اور دلہن اپنی شادی سے قبل جلد وزن کم کرنے کے لیے شارٹ کٹ تلاش کر رہے ہیں۔ وزن کم کرنے والی ادویات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بیوٹی کیلنکس بھی اس دوڈ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ نئی دہلی کے ایک معروف فلاحی مرکز کلیریٹی اسکن کلینک نے ''مونجارو برائیڈ'' کے نام سے ایک خصوصی شادی پیکج متعارف کرایا ہے۔ دیگر کلینکس نے بھی ''شادی سے پہلے'' کے گرومنگ سیشنز میں وزن کم کرنے والے انجیکشن بھی شامل کر دیے ہیں۔ یہ وہ سیشنز ہیں جو پہلے صرف جلد اور بالوں کے حوالے سے مخصوص ہوتے تھے۔ ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں کلیریٹی کلینک دلہنوں کو ''مخصوص ڈائیٹ، مونجارو اور اسمارٹ ورزش'' کے ذریعے ''شادی کے لیے تیار کرنے'' کا دعویٰ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کلینک نے تاہم اس ویڈیو کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرنے والے چند ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے پاس شادی کے بندھن میں بندھنے والے افراد کی جانب سے وزن کم کرنے کے حوالے سے سوالات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ تر افراد ایلی للی کمپنی کی دوا مونجارو کے بارے میں پوچھتے ہیں، جو ذیابیطس اور وزن میں کمی دونوں کے لیے بھارت میں دستیاب ایک دوا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ دوائیں پہلے سے مشہور و مونجارو کی فروخت اس کے مارکیٹ میں آنے کے بعد چند مہینوں میں ہی دگنی ہو گئی ہے۔ اب یہ بھارت کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا بن چکی ہے۔ نئی دہلی کے ہندی وائن ہیلتھ کیئر کے بیریاٹرک سرجن رجت گوئل نے بتایا، "گزشتہ چند مہینوں میں موٹاپا کم کرنے کے انجیکشنز کے بارے میں موصول ہونے والے سوالات میں بیس فیصد سے زیادہ ان لڑکیوں کی جانب سے کیے گئے ہیں جن کی شادی ہونے والی ہے۔" روایات کا بوجھ اور سماجی دباؤ بھارت میں شادی ایک بڑی تقریب ہوتی ہے، جہاں ثقافت اور روایتکا گہرا اثر ہوتا ہے۔ بہت سی شادیاں آج بھی خاندانوں کی مرضی سے طے ہوتی ہیں، جن میں ظاہری شکل صورت اور مالی حیثیت سے متعلق توقعات شامل ہوتی ہیں۔ ممبئی کی چھبیس سالہ ادیتی نے بتایا کہ ورزش اور خوراک سے وزن کم نہ ہونے پر انہوں نے ڈاکٹر سے وزن کم کرنے کی دوا لی۔ انہوں نے کہا، "جب میں نتیجہ دیکھتی ہوں تو خوش ہوتی ہوں۔ میں نے شادی سے پہلے مونجارو نامی دوا سے دس کلو وزن کم کیا۔ اگر میں خوش نہ ہوتی تو میری خود اعتمادی کم ہو جاتی اور میں شادی کے وقت ایسا محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔" ادویات بنانے والی دو کمپنی نوو اور للی نے گزشتہ سال بھارت میں موٹاپے کی اپنی ادویات متعارف کرائیں۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک بھارت کی موٹاپا کم کرنے والی ادویات کی مارکیٹ اسی ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ وزن کم کرنے والی یہ ادویات بنیادی طور پر ان بالغ افراد کے لیے ہیں جو موٹاپے کا شکار ہوں، یا جن کا وزن زیادہ ہو اور ساتھ ہی انہیں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا نیند کی کمی جیسی بیماریاں لاحق ہوں۔ بھارت میں مونجارو نامی دوا کی کم ترین خوراک کی قیمت تیرہ ہزار ایک سو پچیس بھارتی روپے ماہانہ ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ خوراک پچیس ہزار سات سو اکیاسی روپے تک فروخت ہوتی ہے۔ سستی ادویات اور غلط استعمال دی لانسیٹ نامی ایک طبی جریدے کے مطابق 2050 تک بھارت میں چار سو چالیس ملین سے زیادہ افراد موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حیدرآباد کی اکشتا نے بتایا کہ انہوں نے اپنی شادی سے پہلے ان ادویات کی مدد سے پندرہ کلو وزن کم کیا جس سے ان کا وزن چھہتر کلو رہ گیا۔ انہوں نے کہا، "شادی سے پہلے اتنی بھاگ دوڑ ہوتی ہے کہ جم جانے یا خوراک پر کنٹرول کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ اس لیے مجھے یہ ادویات بہتر حل لگیں۔" مقامی کمپنیوں کے ان ادویات کے سستے ورژن آنے کے بعد بھارت کے ڈرگ ریگولیٹر نے ان دواؤں کے غلط استعمال کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈاکٹر سواتی پردھان نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں میں اس حوالے سے تجسس ہے۔ لیکن یہ دوائیں کوئی فوری حل نہیں ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کو یہ دوا تجویز کرتی ہیں جنہیں طبی طور پر اس کی ضرورت ہو اور ساتھ ہی طرزِ زندگی میں تبدیلی پر بھی زور دیتی ہیں۔" بنگلورو کی ستائیس سالہ پریا نے بتایا کہ وزن کم کرنے والی ادویات ان کے لیے ممکنہ دلہوں کے خاندانوں کی جانب سے کی جانے والی باڈی شیمنگ کا جواب بن گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے کئی بار وزن کی وجہ سے مسترد کیا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ میں موٹی ہوں۔" تاہم وزن کم کرنے کے باوجود مناسب رشتے کی ان کی تلاش اب تک جاری ہے۔ ادارت: عاطف توقیر
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu