سعودی عرب کا نخلستانی شہر الخرج کئی نسلوں سے دارالحکومت ریاض سے آنے والے تھکے ماندے لوگوں کے لیے سکون حاصل کرنے کی پسندیدہ جگہ رہا ہے۔ لیکن اس کی یہ پرسکون فضا اس وقت متاثر ہوئی جب یہ ایرانی حملوں کی زد میں آ گیا۔سعودی عرب کے نخلستانی شہر الخرج کے رہائشی جنگ کے باوجود حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالانکہ اب فضاء میں اکثر ڈرونز اور میزائلوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ سڑکوں کے دونوں اطراف کھجور کے درختوں اور ان کے خوب صورت پتوں کے دلفریب منظر والا نخلستانی شہر الخرج وسیع و عریض پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ اس اڈے پر ایران کے ایک حملے میں کم از کم ایک درجن امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ بعد میں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک جدید نگرانی کرنے والے طیارے کو نشانہ بنایا، جو سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں فضائی ایندھن فراہم کرنے والے کئی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد تہران نے اپنے خلیجی پڑوسی ممالک پر شدید حملوں کی لہر شروع کر رکھی ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم الخرج کے رہائشی ان حملوں کے باوجود بڑی حد تک حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالانکہ اب اکثر اس شہر کی فضاؤں میں ڈرونز اور میزائلوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ایک ساٹھ سالہ مقامی رہائشی عبداللہ نے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم اکثر فضاء میں میزائل روکے جانے کے بعد بلند ہونے والے دھماکوں کی آوازیں سنتے ہیں، لیکن آسمان میں کچھ نظر نہیں آتا۔'' انہوں نے سکیورٹی سے متعلق حساس معاملات کی وجہ سے صرف اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کی درخواست کی۔ پہلی شہری ہلاکتیں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب میں پہلی شہری ہلاکتیں بھی الخرج میں ہی ہوئیں، جب 8 مارچ کو ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے شہر میں کام کرنے والے دو مہاجر مزدور ہلاک ہو گئے۔ اور گزشتہ ہفتے ایک اور واقعے میں اس وقت دو افراد زخمی ہو گئے جب ایک ڈرون کو تباہ کرنے کے دوران اس کے ملبے کے ٹکڑے تین گھروں پر آ گرے۔ سعودی حکام کے مطابق اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں مزید چھ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ عبداللہ نے مقامی مسجد میں عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''الخرج کے لیے یہ صورتحال غیر معمولی ہے۔'' انہوں نے کہا، تاہم ''زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے اور کسی قسم کی تبدیلی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔'' ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر جدید امریکی لڑاکا طیاروں کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں ایف سولہ اور ایف پینتیس جیسے جنگی طیارے شامل ہیں، جہاں ان کے ایندھن بھرنے کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ امریکی افواج 2019 میں واشنگٹن اور ریاض کے درمیان ایک معاہدے کے بعد دوبارہ سعودی عرب میں تعینات ہوئیں، اور اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینکڑوں امریکی فوجیوں کو پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات کیا گیا تھا۔ یہ اڈہ پہلی خلیجی جنگ کے دوران کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال ہوا تھا اور بعد میں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران بھی مختصر مدت کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے بعد تمام امریکی فوجیوں کو مملکت سے واپس بلا لیا گیا تھا۔ ماضی میں سعودی عرب میں امریکی افواج کی موجودگی معاشرے کے زیادہ قدامت پسند حلقوں کے لیے تنازع کا باعث رہی ہے، کیونکہ وہ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کی سرزمین پر غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے کو اسامہ بن لادن نے بھی 2001 میں امریکہ پر حملے کی ایک وجہ بتایا تھا۔ جنگ کی تازہ صورتحال پر نظر پہلی نظر میں الخرج کا پُرسکون ماحول اس کی جنگی صورتحال کے بارے میں بہت کم اشارے دیتا ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے زرعی پیداوار کا مرکز رہا ہے، جہاں سرسبز کھیت اور پھلوں سے بھرپور باغات مملکت کے بیشتر حصے پر پھیلے وسیع صحرا کے مقابلے میں ایک نمایاں تضاد پیش کرتے ہیں۔ اے ایف پی کی جانب سے حال ہی میں دورہ کیے گئے ایک مقامی ریستوران میں دوپہر کے کھانے کے وقت گاہک چاول اور گوشت کے لقموں کے درمیان اپنے موبائل فون پر جنگ کی تازہ صورتحال بھی چیک کرتے نظر آئے۔ ایک سرکاری ملازم ترکی، جنہوں نے صرف اپنا پہلا نام بتانے کو ترجیح دی، کہا ''اب الخرج خبروں میں آ رہا ہے اور ہمارے دوست تقریباً ہر نئی خبر کے ساتھ ہمیں فون کر کے خیریت دریافت کرتے ہیں۔'' اگرچہ ایران باقاعدگی سے اس اڈے پر حملوں کی نئی بوچھاڑیں کرہا ہے، تاہم اے ایف پی کو وہاں سخت سکیورٹی کی نمایاں موجودگی کے آثار نظر نہیں آئے۔ البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگلے حملے کی فکر ہمیشہ موجود رہتی ہے، اور موبائل فون پر آنے والے ممکنہ حملوں کی وارننگ کے پیغامات باقاعدگی سے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ سیاہ نقاب پہنے ایک مقامی کیفے میں کافی پیتی ہوئی طالبہ بتول نے اے ایف پی کو بتایا، ''اگر میں یہ کہوں کہ دھماکوں کی آواز سن کر یا غیر ملکی مزدوروں کی ہلاکت کی خبر سن کر مجھے خوف نہیں آتا تو یہ جھوٹ ہو گا۔' تاہم انہوں نے کہا کہ وہ خوف کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔ انہوں نے مزید کہا، ''جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، میں باہر بیٹھ کر پڑھائی کر رہی ہوں۔'' انہوں نے کہا، ''جنگ کی وجہ سے میرے روزمرہ کے معمولات میں بالکل بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔'' ادارت: شکور رحیم

