Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
جرمنی کی سکیورٹی پالیسی: بنیادی حقوق خطرات میں؟

جرمنی کی سکیورٹی پالیسی: بنیادی حقوق خطرات میں؟

DW Urdu 1 day ago
انسانی حقوق کی دس تنظیموں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں سکیورٹی معاملات کو بنیادی حقوق پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں جرمن حکومت کو نئی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انسانی حقوق کی دس تنظیموں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عوامیت پسند سیاست اور آمرانہ رجحانات کے دور میں جرمنی بھی بنیادی انسانی حقوق پر سمجھوتا کرتے دکھائی دے رہا ہے۔ ان تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ ' 2026 بنیادی حقوق رپورٹ' میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق مختلف طریقوں سے خطرے میں ہیں، مثلاً موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات کمزور پڑنے سے، سستی رہائش کی کمی سے اور سوشل میڈیا قوانین سے، جو لوگوں کی ذاتی آزادی متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ 240 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کا اجراء جمعرات کے دن کارلسروہے میں کیا گیا۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب سکیورٹی خدشات داخلی پالیسی پر حاوی ہو جائیں اور اس کے نتیجے میں فوجی طاقت میں اضافہ کیا جائے۔ بنیادی حقوق، آزادی اور برابری ایسے رائٹس کو کہا جاتا ہے، جو ہر فرد کو قانون کے تحت حاصل ہوتے ہیں۔ جرمن آئین ابتدائی 19 آرٹیکلز میں ان حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جو شہریوں کو ریاستی زیادتی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ سن 1997 سے ہر سال شائع کی جا رہی ہے، جسے پرو اسائلم، دی ہیومنسٹ یونین اور لیگ فار دی ہیومن رائٹس جیسی مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اسپانسر کرتی ہیں۔ اس سال اس رپورٹ کی حمایت سابق وفاقی وزیر انصاف ہیرٹا دوبلر گیملن نے بھی کی۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بنیادی حقوق کے لیے سب سے بڑے خطرات روس کی یوکرین کے خلاف جنگ، غزہ جنگ اور ایران کی جنگ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ''جارحانہ جنگیں اگر بنیادی اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟'' جرمنی میں عسکری بجٹ میں بڑا اضافہ سن 2025 میں قدامت پسند اتحاد سوشل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی کے درمیان اتفاق رائے کے نتیجے میں جرمنی کی مسلح افواج کو جدید بنانے کے لیے 500 ارب یورو کا نیا بجٹ منظور کیا گیا تھا۔ بنیادی حقوق کی اس رپورٹ میں اس پیش رفت کو جرمنی میں ''تیزی سے بڑھتی ملٹرائزیشن'' قرار دیا گیا ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار اس سطح پر دیکھی جا رہی ہے۔ اسی دوران حکومت کی جانب سے ترقیاتی امداد میں کٹوتی بھی کی جا رہی ہے۔ سن 2025 میں اقتصادی تعاون و ترقی کی وزارت کے بجٹ میں تقریبا ایک بلین یوروز کی کٹوتی کر دی گئی۔ یہ بجٹ اب تقریبا 10.31 بلین یورو ہو گیا ہے۔ یہ وہی رقوم ہیں، جو جرمنی ترقیاتی امداد کی مد میں ضرورت مند ممالک کو فراہم کرتا ہے۔ سابق وزیر انصاف ہیرٹا دوبلر گیملن نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ''اس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر ممالک میں صحت کے نظام برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افریقہ میں لوگ مر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس تنازعات سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔'' پناہ گزینوں کے پروگرامز بھی متاثر حکومتی اخراجات میں کمی نے پناہ گزینوں کے پروگراموں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جمعرات کی پریس کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین احمد مصمم رحیمی بھی شامل تھے۔ طالبان حکومت کے ناقد دسمبر سے جرمنی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں جرمنی آنے کی اجازت ملنے میں دو سال انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ جرمن حکومت نے سن 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سابقہ حکومتوں کے قائم کردہ پناہ گزینوں کے لیے آبادکاری پروگرام ختم کر دیے تھے۔ رحیمی نے مزید کہا، ''میرے پاس تمام دستاویز موجود تھے اور وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ مجھے فوری طور پر جرمنی آنے دیا جائے گا، لیکن میں تقریباً دو سال تک پاکستان میں ویزے کے انتظار میں بیٹھا رہا۔'' کیا جرمنی دوبارہ لازمی فوجی سروس متعارف کرا سکتا ہے؟ اس رپورٹ کے مصنفین کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ جرمنی میں لازمی فوجی سروس (کنسکرپشن) دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ انٹرنیشنل لیگ فار ہیومن رائٹس کی ایگزیکٹو بورڈ رکن ایتھینا میولر کا کہنا ہے کہ یہ توقع کرنا درست نہیں کہ ریاست خود تو بنیادی حقوق کے مکمل تحفظ سے آنکھ چرائے لیکن لوگوں بالخصوص نوجوانوں سے امید کرے کہ وہ ریاست کے ساتھ مکمل وفاداری دکھائیں۔ اس وقت جرمن حکومت زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو رضاکارانہ بنیاد پر فوج میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اگر یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو لازمی فوجی سروس کو دوبارہ متعارف کرانے کا آپشن، جو سن2011 میں معطل کر دیا گیا تھا، پھر سے زیر غور آ سکتا ہے۔
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu