بیش قیمت اور نادر فن پاروں پر مشتمل ایک نئی گیلری اسلام آباد میوزیم میں قائم کر دی گئی ہے، مگر ہزاروں سالہ قدیم اشیا غیر قانونی طور پر عالمی مارکیٹ تک کیسے پہنچیں، اور برسوں بعد ان کی پاکستان واپسی کیسے ہوئی ہے؟اسلام آباد میوزیم کے ایک خاموش گوشے میں شیشے کے چھوٹے سے باکس میں رکھا سونے کا سکہ ایسے چمک رہا ہے جیسے وقت کی گرد اس پر پڑی ہی نہ ہو۔ مگر ساتھ رکھے تعارفی نوٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقریباً دو ہزار سال پرانا سکہ ہے، جو انڈو یونانی دور کے حکمران اسٹریٹو اول کی یادگار ہے۔ یہ محض ایک تاریخی سکہ نہیں بلکہ نوادرات کی اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹ کے پیچیدہ نیٹ ورکس کی ایک طویل افسوس ناک داستان کا ثبوت بھی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالغفورڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں، '2007 سے اب تک امریکہ مختلف مراحل میں 513 نوادرات پاکستان کے حوالے کر چکا ہے جو کروڑوں ڈالر کی مالیت اور ہزاروں برس کی تاریخ ہیں۔" انہی میں یہ سکہ بھی شامل ہے۔ امریکہ سے واپس آنے والے یہ نوادرات محض قدیم مجسمے یا سکے نہیں بلکہ اس خطے کی ہزاروں برس پر محیط تہذیبی تاریخ، مذہبی ارتقا اور ثقافتی میل جول کی اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ نایاب اشیا عالمی آرٹ مارکیٹ تک کیسے پہنچیں؟ یہ نوادرات کب اور کیسے اسمگل ہوئے؟ ماہرین کے مطابق پاکستان میں نوادرات کی غیر قانونی تجارت کئی دہائیوں سے جاری ہے، تاہم جدید آلات، بین الاقوامی آرٹ مارکیٹ کی بڑھتی طلب اور کمزور نگرانی نے گزشتہ برسوں میں اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سیولائزیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید عارف ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں، 'گندھارا اور دیگر آثارِ قدیمہ سے تعلق رکھنے والی کئی اشیا گزشتہ چند دہائیوں میں غیر قانونی کھدائیوں اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان سے باہر گئیں۔" محقق اور مصنف سجاد اظہر کے مطابق نوادرات کی اسمگلنگ محض چند انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم غیر قانونی کاروبار ہے۔ وہ ڈی ڈبلیو کو بتاتے ہیں، 'غیر قانونی کھدائیاں پہلے بھی ہوتی تھیں، مگر جدید آلات آنے کے بعد گزشتہ دو دہائیوں میں ان میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے اس نیٹ ورک کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔" سمندری آثارِ قدیمہ کے ماہر پیٹر کیمبل کی 2013 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نوادرات کی اسمگلنگ کسی ایک بڑے مافیا کے بجائے مختلف سطحوں پر کام کرنے والے لچکدار مگر مربوط نیٹ ورکس کے ذریعے چلتی ہے۔ ایک شخص غیر قانونی کھدائی کرتا ہے، دوسرا سرحد پار کرواتا ہے، تیسرا جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے، جبکہ چوتھا انہیں عالمی آرٹ مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے۔ اس طرح پورا سلسلہ بنتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق بعض نیٹ ورکس نوادرات کو افغانستان سے پاکستان کے سرحدی شہروں تک لاتے ہیں، جہاں سے انہیں بڑے شہروں میں منتقل کر کے کارگو، فرنیچر یا روزمرہ اشیا میں چھپا کر متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے تمام ماہرین ایک ہی مؤقف نہیں رکھتے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالغفور کے مطابق، 'زیادہ تر نوادرات برطانوی دور میں ہی بیرون ملک پہنچ چکے تھے، جب قانونی اور ثقافتی حساسیت آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔'' ان کے بقول، 'مقامی افراد کو معمولی ٹیکس کے بدلے دریافت ہونے والی اشیا اپنے پاس رکھنے کی اجازت مل جاتی تھی، یوں یہ نوادرات مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے بیرون ملک پہنچتے رہے۔ امریکہ سے پاکستان کو ملنے والی نودرات کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا یہ کب دوسرے ممالک میں پہنچیں، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ایسا پاکستان بننے سے پہلے ہوا۔" یہ نایاب نوادرات پاکستان کو کیسے ملے؟ ڈاکٹر عبدالغفور کے مطابق امریکی ماہرین نے ان نوادرات کی شناخت ان کے مخصوص فنِ تعمیر، تاریخی پس منظر اور آرٹ کی بنیاد پر کی، جنہیں گندھارا، سوات ویلی اور مہرگڑھ جیسے ان علاقوں سے منسلک قرار دیا گیا جو اب پاکستان کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول، 'گندھارا بدھسٹ آرٹ اپنے یونانی یا ہیلینسٹک اثرات کی وجہ سے دنیا کے دوسرے بدھسٹ فن سے واضح طور پر مختلف سمجھا جاتا ہے۔ یونانی طرز کے پتھریلے مجسمے، ریلیف ورک اور آرائشی نقش و نگار اس کی نمایاں پہچان ہیں۔" ڈاکٹر عبدالغفور کے مطابق انہی تاریخی اور فنی خصوصیات کی بنیاد پر امریکی محققین نے ان نوادرات کو پاکستان کے ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان یونیسکو کے اس بین الاقوامی کنونشن کا بھی فریق ہے جو ثقافتی ورثے کی غیر قانونی خرید و فروخت اور منتقلی کی روک تھام سے متعلق ہے، جبکہ 2024 میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ اور نوادرات کی واپسی کے حوالے سے تعاون مزید بڑھا ہے۔ واپس آنے والے نوادرات میں کیا شامل ہے؟ امریکہ سے واپس آنے والے نوادرات محض چند قدیم مجسمے یا سکے نہیں بلکہ اس خطے کی ہزاروں برس پر محیط تہذیبی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے بدھسٹ مجسمے، بدھ پادا اسکلپچر، اسٹکو اور پتھر سے بنی مذہبی شخصیات، ہیلینسٹک طرز کے ریلیف ورک، اور انڈو یونانی دور کے نایاب سکے شامل ہیں۔ ڈاکٹر سعید کے مطابق، 'اس ذخیرے میں مہرگڑھ سے تعلق رکھنے والی سات ہزار سال قدیم ٹیراکوٹا مورتیاں، مدر گاڈیس فگرینز، نقش و نگار والے برتن اور چالکولتھک دور کی اشیا بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نوادرات اس خطے میں ابتدائی انسانی آبادی، مذہبی ارتقا، تجارت، فن اور تہذیبی میل جول کی اہم شہادت سمجھے جاتے ہیں۔" سجاد اظہر کے بقول، 'اسلام آباد میوزیم کی خاموش گیلری میں رکھے یہ مجسمے، سکے اور مورتیاں محض قدیم فن پارے نہیں بلکہ اس خطے کی بکھری ہوئی تہذیبی یادداشت ہیں۔ دہائیوں تک عالمی آرٹ مارکیٹ اور نجی کلیکشنز میں گردش کرنے کے بعد اب یہ نوادرات دوبارہ اسی سرزمین پر لوٹے ہیں جہاں کبھی یہ تخلیق کیے گئے تھے۔" ڈاکٹر سعید کہتے ہیں، 'یہ خوش آئند قدم ہے کہ اسلام آباد میوزیم میں 'ورثے کی واپسی' کے نام سے الگ گیلری قائم کی گئی، ہمارے گودام ایسے نودرات سے بھرے پڑے ہیں، انہیں بھی عوامی تفریح، ورثے سے آگاہی اور محقیقین کے مطالعے کے لیے سامنے لایا جانا چاہیے۔" ادارت: جاوید اختر

