Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
اسرائیل میں اب مگرمچھ بھی جیلوں کی حفاظت کریں گے

اسرائیل میں اب مگرمچھ بھی جیلوں کی حفاظت کریں گے

DW Urdu 1 day ago
اسرائیلی حکومت نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے انہیں سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کا مقصد قیدیوں کی جیلوں سے فرار ہونے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔اسرائیل کی وزیر برائے تحفظ ماحولیات نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر حماس سے وابستہ قیدیوں کی جیل کے ارد گرد مگرمچھ تعینات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے ممکنہ فرار کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اسرائیل کی وزیر برائے تحفظ ماحولیات ایدت سلمن نے مگرمچھوں کو نئی قانونی درجہ بندی جاری کرتے ہوئے انہیں 'جنگلی جانور' یا Wild Animal کے بجائے 'پالے گئے جنگلی جانور' یا Cultivated Wild Animal کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری منظوری اور ماحولیاتی حکام کی مقرر کردہ شرائط کے تحت منظور شدہ سکیورٹی اداروں کو دریائے نیل کے مگرمچھوں کو سکیورٹی مقاصد کے لیے پالنے اور رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے گزشتہ دسمبر میں فلسطینی قیدیوں کی جیل کے اطراف میں مگرمچھ تعینات کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ تجویز امریکی ریاست فلوریڈا میں تارکین وطن کے ایک حراستی مرکز سے مماثلت رکھتی ہے، جسے Alligator Alcatraz کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دریائے نیل کے مگرمچھ سکیورٹی اثاثہ قرار دے دیے گئے نئی درجہ بندی کے بعد اسرائیلی جیل سروس سمیت دیگر ادارے حکومتی منظوری حاصل کر نے کے بعد سکیورٹی کے لیے مگرمچھ استعمال کر سکیں گے۔ اسرائیلی جیل سروس قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے ماتحت کام کرتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بن گویر جنوبی اسرائیل میں واقع کیتزیوت جیل کے اطراف میں مگرمچھ تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس جیل میں زیادہ تر فلسطینی قیدی رکھے جاتے ہیں۔ فیس بک پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں بن گویر نے لکھا: ''اگر آپ فرار ہونے کا سوچ رہے ہیں تو دوبارہ سوچیں۔'' انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ ایک مگرمچھ کو پٹے سے تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تجویز پر تنقید اسرائیل کے ٹی وی چینل 13 کے مطابق جب گزشتہ سال بن گویر نے پہلی مرتبہ یہ تجویز پیش کی تھی، تو اسرائیل کی نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس ادارے کا موقف تھا کہ جنگلی جانوروں کو صرف تحقیق اور تعلیمی مقاصد کے لیے رکھا جانا چاہیے، نہ کہ سکیورٹی یا نگرانی کے لیے۔ اس اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ ماضی میں افزائش نسل کے لیے رکھے گئے مگرمچھ کئی بار فرار ہو کر جنگلات میں پہنچ گئے تھے، جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیل سروس کے کئی افسران نے بھی اس تجویز کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا تھا۔ ادارت: مقبول ملک
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu