Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
پاکستان کے بزرگ شہری کس حال میں جی رہے ہیں؟

پاکستان کے بزرگ شہری کس حال میں جی رہے ہیں؟

DW Urdu 14 hrs ago
ماہرین کے مطابق معمر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے سرکاری سطح پر مختلف اقدامات تو کیے گئے ہیں لیکن عمر رسیدہ افراد کو لاحق بیشتر مسائل سے نمٹنے کے لیے اب تک کوئی جامع قومی پالیسی موجود نہیں۔پاکستان میں بزرگ شہریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان کے لیے باوقار اور محفوظ بڑھاپا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پنشن اور سماجی تحفظ کی محدودسہولتیں، مہنگا علاج اور روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ان کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے معمر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات تو کیے ہیں لیکن ملک میں عمر رسیدہ افراد کو لاحق بیشتر مسائل سے نمٹنے کے لیے اب تک کوئی جامع قومی پالیسی موجود نہیں۔ وفاقی حکومت کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے قومی پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ تاہم ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ وفاقی حکومت اسے قومی رہنما اصولوں کی شکل میں جاری کرے یا باقاعدہ پالیسی سازی کے لیے صوبوں کے حوالے کرے۔ 2050ء تک بزرگ شہریوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ عمر رسیدگی سے متعلق امور کے ممتاز بین الاقوامی ماہر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 35 لاکھ ہے، جو 2050ء تک بڑھ کر تین کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ''پاکستان کے صرف 5.8 فیصد بزرگ شہریوں کو کسی نہ کسی شکل میں رسمی سماجی تحفظ حاصل ہے جبکہ بیشتر بزرگ اپنے خاندان، محدود ذاتی آمدنی، غیر رسمی روزگار یا دوسروں کی مالی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔'' ڈاکٹر اصغر زیدی کے بقول خاندانی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی بزرگوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کی بڑے شہروں اور بیرون ملک نقل مکانی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث روایتی خاندانی سہارا کمزور ہو رہا ہے، لیکن اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ابھی تک کوئی مضبوط ریاستی نظام موجود نہیں۔ ملک میں پنشن کا دائرہ بھی محدود ہے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے تحت رجسٹرڈ اداروں کے اہل کارکنوں کو پنشن فراہم کی جاتی ہے لیکن زرعی مزدوروں، دیہاڑی داروں، گھریلو ملازمین، چھوٹے کاروبار کرنے والوں اور خود روزگار افراد کی ایک بڑی تعداد پوری زندگی کام کرنے کے باوجود بڑھاپے میں باقاعدہ پنشن سے محروم رہتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک کی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق کے مطابق پنشن کے نظام میں حالیہ تبدیلیوں نے مستقبل کے بارے میں سرکاری ملازمین کی مالی بے یقینی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، '' یہ مناسب نہیں کہ حکومت ایک طے شدہ نظام کے تحت کسی شخص سے تیس سال خدمات حاصل کرے اور پھر ملازمت کے اختتام پر اس کی ریٹائرمنٹ سے متعلق شرائط تبدیل کر دے۔'' انہو‍ں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا، ''لوگ ساری زندگی اس امید پر ملازمت کرتے تھے کہ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم سے بچوں کی شادیاں کریں گے یا اپنا مکان بنا سکیں گے، لیکن اب یہ امید بھی کمزور پڑ رہی ہے۔'' پنشن کے نظام میں اصلاحات پر حکومتی موقف دوسری جانب حکومت پنشن کے نظام میں اصلاحات کا جواز بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات اور سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو قرار دیتی رہی ہے۔ لوگوں کی اوسط عمر میں اضافے کے ساتھ پنشن کی ادائیگی کا دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے، جس کے باعث حکومت پنشن کے اخراجات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلوسیو ڈیولپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو سید معیز الدین کاکاخیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان کے بزرگ شہریوں کو صحت، معاشی عدم تحفظ، سماجی تنہائی اور موسمیاتی آفات جیسے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ ان کے مطابق، ''تقریباً 60 فیصد بزرگ کسی نہ کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں، ہر تین میں سے ایک بزرگ سماجی تنہائی کا شکار ہے، جبکہ صرف تین سے پانچ فیصد کو پنشن ملتی ہے۔'' ایک معمر خاتون مسز حامد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ معمر افراد کا ایک بڑا مسئلہ صحت اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا، '' عمر بڑھنے کے ساتھ ذیابیطس، امراض قلب، جوڑوں کے امراض، بینائی اور سماعت کی کمزوری، ڈیمنشیا، ڈپریشن اور نقل و حرکت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے میں بزرگوں کو صرف ہسپتال میں داخلے کی سہولت ہی نہیں بلکہ مسلسل طبی نگرانی، ادویات، بحالی صحت، ذہنی صحت کی خدمات اور طویل مدتی نگہداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔'' اس بزرگ خاتوں کا کہنا تھا کہ محدود آمدنی یا پنشن پر گزارا کرنے والے بزرگوں کے لیے ان اخراجات کو برداشت کرنا خاص طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔ بدلتے سماجی رویے پاکستان میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف قوانین اور پروگرام موجود ہیں لیکن ان کا دائرہ کار محدود اور عمل درآمد کمزور ہے۔ لاہور میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت چلنے والے اولڈ ایج ہوم کی سربراہ سمیرا اسلم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پنجاب میں محکمے کے سات اولڈ ایج ہومز قائم ہیں اور ہر مرکز میں پچاس بزرگ شہریوں کو رہائش فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔'' ان کے مطابق، ''تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب خوش حال اور تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بزرگ بھی اولڈ ایج ہومز کا رخ کر رہے ہیں۔'' سمیرا اسلم کے بقول یہ صورت حال اس تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال کا مسئلہ اب صرف غربت یا وسائل کی کمی تک محدود نہیں رہا بلکہ بدلتے ہوئے خاندانی اور سماجی رویے بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال میں بہتری کے لیے ریاستی اور معاشرتی دونوں سطحوں پر اقدامات ضروری ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کہتے ہیں، ''وفاقی سطح پر سینئر سٹیزنز کے حقوق کا جامع قانون، بزرگ شہریوں کے لیے کم از کم غیر شراکتی پنشن، بزرگ افراد کے لیے ایک بااختیار قومی کمیشن کے قیام اور صحت کے نظام میں جیریاٹرک کیئر کی باقاعدہ شمولیت ضروری ہے۔'' ڈاکٹر زیدی کے مطابق ضلعی ہسپتالوں میں بزرگوں کے علاج کے خصوصی یونٹس اور بنیادی مراکز صحت میں عمر سے متعلق بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی سہولت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ ''بزرگوں کی مدد کو خیرات کے بجائے ان کا شہری حق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان آج ایک نوجوان ملک ہے، لیکن آنے والی دہائیوں میں اس کی بزرگ آبادی تیزی سے بڑھے گی۔ اس لیے بڑھاپے میں باوقار، محفوظ اور صحت مند زندگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات ابھی سے کرنا ہوں گے۔'' ماہرین کے مطابق محفوظ اور باوقار بڑھاپے کو شہری حق سمجھتے ہوئے ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو ان کی زندگیوں کے آخری برسوں میں معاشی تحفظ، مناسب علاج اور باوقار طرز رہائش فراہم کر سکے۔ ادارت: شکور رحیم
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu