Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
اسرائیلی وزیر کا 'نازا' کے فلم سازوں پر 'غداری' کا الزام

اسرائیلی وزیر کا 'نازا' کے فلم سازوں پر 'غداری' کا الزام

DW Urdu 3 days ago
اسرائیل کے وزیر ثقافت نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بنائی گئی دستاویزی فلم 'نازا' (NAZA) کے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔اسرائیل کے وزیر ثقافت میکی زوہار نے فلم نازا کے دونوں فلم سازوں، یووال ابراہم اور ریچل زور، پر الزام لگایا کہ وہ ''دنیا بھر میں یہود مخالف عناصر سے داد حاصل کرنے'' کے لیے اپنے ملک کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہیں۔ میکی زوہار نے یووال ابراہم اور ریچل زور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ دونوں کو اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں پر بنائی گئی دستاویزی فلم 'نازا' کے لیے وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ ملا تھا۔ ''نازا''عبرانی زبان کا مخفف ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسے فوجی حملے میں ہلاک ہونے والے ممکنہ شہریوں کی تعداد کے تخمینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلم میں ان اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکاروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جو ان حملوں میں شامل تھے۔ اسرائیلی فوج شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تردید کرتی ہے۔ وزیر ثقافت اور دیگر کا کیا کہنا ہے؟ میکی زوہار نے کہا کہ ابراہم اور زور ''دنیا بھر میں یہود مخالف عناصر سے داد حاصل کرنے کے لیے اپنے وطن کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہیں۔'' انہوں نے 'ایکس' پر لکھا، ''میں ریاست سے غداری کرنے والے ان قابل مذمت فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری کارروائی کروں گا۔'' دائیں بازو کے رہنما اور وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی اسی پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں دونوں فلم سازوں کو اسرائیل کے لیے ''باعث شرمندگی اور رسوائی'' قرار دیا۔ اسرائیل میں شہریت منسوخ کرنا قانونی طور پر ممکن ہے۔ سپریم کورٹ نے 2022 میں تصدیق کی تھی کہ ریاست جاسوسی یا غداری جیسے ''ریاست سے بے وفائی'' کے اقدامات پر کسی شخص کی شہریت منسوخ کرسکتی ہے۔ فلم 'نازا' میں کیا دکھایا گیا ہے؟ فلم ''نازا'' کے لیے ابراہم اور زور نے اسرائیلی فوج یا انٹیلیجنس سے وابستہ 24 افراد کے انٹرویوز تل ابیب میں عمارتوں کی چھتوں پر رات کے وقت کیے۔ ان افراد نے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے اہداف مقرر کرنے کے نظام سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ یہ حملے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں شروع کیے گئے تھے، جن میں اسرائیل کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ غزہ کے حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، جنہیں اقوام متحدہ مجموعی طور پر قابل اعتماد سمجھتا ہے، اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں تقریباً 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ یووال ابراہم نے کہا کہ ''جن اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ہم نے بات کی، انہوں نے ہمیں بتایا کہ بڑے پیمانے پر یہ ہلاکتیں منظم انداز میں کی جا رہی ہیں۔ یہ حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی کارروائیاں ہیں، جن میں قتل اور فلسطینیوں کی مکمل غیر انسانی حیثیت پر مبنی پالیسیاں شامل ہیں۔'' اسرائیلی فوج نے 80 منٹ دورانیے کی اس فلم میں عائد الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ فوج نے دیگر اعتراضات کے علاوہ گمنام گواہیوں کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ ادارت: عاطف توقیر
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu