Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی ترقی روکنا قابلِ عمل نہیں، جرمنی

مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی ترقی روکنا قابلِ عمل نہیں، جرمنی

DW Urdu 3 days ago
جرمنی کا کہنا ہے کہ یورپ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی روک دینا قابلِ عمل راستہ نہیں۔ برلن نے یورپ کی ڈیجیٹل خودمختاری مضبوط بنانے کے لیے اے آئی کی مزید ترقی اور جدت پر بھی زور دیا۔جرمن وزارت ڈیجیٹل امور کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ ''ہم یورپ کے لیے اے آئی کی ترقی روکنے کو قابلِ عمل راستہ نہیں سمجھتے۔'' انہوں نے کہا کہ یورپ کی ڈیجیٹل خودمختاری مضبوط بنانے کے لیے اے آئی کی مزید ترقی اور جدت ضروری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اے آئی کے شعبے کی معروف کمپنیوں کے ماہرین نے تیزی سے طاقتور ہوتے اے آئی نظام کے لیے مزید حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اے آئی کمپنی 'اینتھروپک' کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے اپنے ایک مضمون میں اے آئی کمپنیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ماڈلز کی صلاحیتوں میں اضافے کی رفتار کم کریں اور زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات متعارف کرائیں۔ انہوں نے اے آئی کمپنیوں کے اندر آزاد جائزہ کاروں کی تعیناتی بھی تجویز کی۔ سان فرانسسکو میں قائم کمپنی 'اینتھروپک'، جو 'کلاڈ' نامی اے آئی نظام تیار کرتی ہے، کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر کمپنیاں حفاظتی اقدامات کے لیے زیادہ وقت مختص نہ کریں تو اے آئی ایجنٹس کا ایک بڑا نیٹ ورک چھ ماہ سے ایک سال کے اندر انٹرنیٹ پر قابض ہونے کے قابل ہوسکتا ہے۔ امودی نے کہا کہ کمپنیوں اور دنیا بھر کی حکومتوں کو ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے اے آئی ماڈلز ذمہ دار انسانوں کی ہدایات اور اقدار کے مطابق کام کرتے رہیں۔ ان کے یہ خیالات اینتھروپک کے دو سابق سیفٹی محققین کی جانب سے اے آئی سے انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئے۔ برلن کا ردعمل جرمن وزارت برائے ڈیجیٹل امور نے کہا کہ وہ عالمی سطح پر اے آئی کی پیش رفت پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور معروف اے آئی ماہرین کی جانب سے دی جانے والی عوامی تنبیہات کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ تاہم وزارت کے ترجمان نے کہا کہ ایسے اے آئی نظام جو آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر خود دیگر نظاموں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوں، ''بالکل نئے نوعیت کے خطرے'' کی نمائندگی کریں گے، جن سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسی درکار ہو گی۔ ترجمان نے اے آئی کی حکمرانی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کی بھی حمایت کی اور کہا کہ مؤثر نگرانی کے لیے امریکہ اور چین دونوں کی شمولیت ضروری ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمن حکومت یہ معاملہ جی سیون (G7) کی سطح پر بھی اٹھا رہی ہے۔ اے آئی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ کمپیوٹر سائنس، فلسفے اور دیگر شعبوں کے ماہرین نے ایسے کئی ممکنہ معاملات کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے مستقبل میں اے آئی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، خواہ یہ انسانی کنٹرول سے باہر نکل جائے یا اسے غیر ذمہ دار افراد استعمال کریں۔ ان خطرات میں ہتھیاروں کا استعمال، مہلک جراثیم کی نشاندہی، حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف تنازع میں دھکیلنا اور معاشروں کے لیے ضروری خوراک، توانائی اور مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنا شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی بھی منظرنامے کے ممکنہ وقت یا وقوع پذیر ہونے کے امکانات کے بارے میں ماہرین میں کوئی متفقہ رائے نہیں ہے۔ دریں اثنا برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بھی اے آئی کے مستقبل میں انسانیت کو لاحق مبینہ خطرات پر کھلی بحث کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے ترجمان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید ترین اے آئی نظام تیار کرنے والی کمپنیوں کا خطرات کے ساتھ ساتھ مواقع پر بھی کھل کر بات کرنا مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ پالیسی سازی ''قیاس آرائی کے بجائے شواہد پر مبنی'' ہونی چاہیے۔ ادارت: عاطف توقیر
Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW Urdu