Tuesday, 01 Dec, 12.00 am DW (Urdu)

دنیا کی خبریں
سری لنکا: جیل میں تصادم کے بعد سینکڑوں قیدی رہا

سری لنکا میں ایک جیل میں کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات سے ناراض قیدیوں کے پرتشدد تصادم کے بعد حکومت نے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے قریب واقع ایک انتہائی سکیورٹی والے جیل میں کورونا وائرس سے پیداشدہ حالات سے ناراض قیدیوں کے پرتشدد تصادم میں اب تک گیارہ افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر حکومت نے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے منگل کے روز کہا کہ گنجائش سے زیادہ رکھے گئے قیدیوں والے جیلوں میں سے ایک میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے کے بعد معمولی جرائم میں قید سینکڑوں افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مزید ایسے ہزاروں قیدیوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ وزیر انصاف علی صابری نے پارلیمان کو بتایا کہ اتوار کے روزجیل میں فساد پھوٹ پڑنے کے واقعے کے بعد اب تک 607 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور ایک صدارتی حکم کے مدنظر مزید قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے دیگر راستے تلاش کیے جارہے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز کی جارہی ہے۔ اموات میں اضافہ کولمبوسے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واقع مہارا کے ہائی سکیورٹی والی جیل میں تصادم کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر گیارہ ہوگئی ہے۔ 100 سے زیادہ قیدی زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو جیل افسران کو بھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ابتدا میں آٹھ قیدیوں کے ہلاک ہونے کی خبریں تھیں تاہم تشدد میں زخمی ہونے والے تین دیگر قیدی بھی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ مہارا جیل میں تصادم کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب قیدیوں نے بہتر صحت کی سہولیات اور اپنے کیسز کی سماعت تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ جیل خانہ جات کے کمشنر چندنا ایکانائیکے نے اس سے قبل کہا تھا کہ قیدیوں کا ایک گروپ اس علاقے میں داخل ہوگیا جہاں دوائیں رکھی ہوئی تھیں اور انہوں نے دوائیں لوٹ لیں۔ سری لنکا کے جیلوں کی حالت اچھی نہیں ہے۔ وہاں اس وقت تیس ہزار سے زیادہ قیدی ہیں جو کہ جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ تقریباً بارہ سو قیدی جانچ کے بعد کورونا پوزیٹیو پائے گئے ہیں۔ ج ا/ ص ز(اے ایف پی، ڈی پی اے)

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: DW (Urdu)
Top