DW (Urdu)
DW (Urdu)

ایران کا نومبر تک جوہری مذاکرات بحال کرنے کا اعلان

ایران کا نومبر تک جوہری مذاکرات بحال کرنے کا اعلان
  • 38d
  • 0 views
  • 0 shares

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ سن 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے ایک عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔ نئی ایرانی حکومت کی عدم دلچسپی کے رویے نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ایران میں اگست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی سن 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ ایرانی حکام نے بدھ کے روز کہا کہ وہ نومبر کے اواخر تک بات چیت دوبارہ شروع کریں گے۔ اس بات کا امکان ہے کہ سخت گیر اسلام پسند صدر ابراہیم رئیسی بات چیت میں اپنے پیش رو کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ ایران کے چیف مذاکرات کار علی باقری کنی نے جوہری مذاکرات کے رابطہ کاراور یورپی یونین عہدے دار اینرک مورا کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹوئٹ پر کہا،”کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری امور کے حوالے سے ہماری (اینرک مورا کے ساتھ) سنجیدہ اور تعمیری بات چیت رہی۔ ہم نومبرکے اواخر تک بات چیت دوبارہ شرو ع کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا،”بات چیت کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان اگلے ہفتے کیا جائے گا۔" ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور علی باقری نے جوہری معاہدے سے متعلق کیے گئے وعدوں سے متعلق مبینہ وعدہ خلافیوں اور پھر اس معاہدے سے امریکی علیحدگی نیز یورپی فریقین کی جانب سے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ایران کیلئے پابندیوں کی مکمل اور موثر طریقے سے منسوخی، ایران اور دنیا سے تجارتی تعلقات کو معمول پر لانا اور اس معاہدے سے ایرانی مفادات حاصل ہونا، اہم ہے۔ امریکا کا ردعمل ایران کے اعلان کے جواب میں امریکا نے تہران سے ”نیک نیتی" کا مظاہرہ کرنے اورمعاہدہ کو جلد از جلد بحال کرنے کی اپیل کی۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا،”یہ کھڑکی ہمیشہ نہیں کھلی رہے گی، ایران جوہری امور کے حوالے سے اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی بات چیت کے لیے ویانا آئیں گے اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔" مذاکرات کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟ اپریل میں دنیا کی چھ بڑی طاقتوں نے تہران کے ساتھ سن 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے سلسلے میں بات چیت شروع کی تھی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں امریکا کو معاہدے سے یک طرفہ طورپر الگ کرلیا تھا اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کردی تھیں۔ ویانا میں چھ دور کی بات چیت کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج برقرار ہے۔ ابھی تک ان امور پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے کہ ایران کس حد تک جوہری حدود کو تسلیم کرنے کے لیے رضامند ہوگا اور امریکا اس پر عائد کون کون سی پابندیاں ختم کرے گا۔ ایران میں حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد سے ہی عالمی طاقتیں ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کرتی رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ تہران کا جوہری پروگرام معاہدے کے حدود سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ج ا/ ص ز (روئٹرز، اے پی)

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Jawan Dost
Jawan Dost

تلنگانہ اردو ورکنگ فیڈریشن کی جانب سے تلنگانہ کے تین اردو صحافیوں کو ایوارڈس

تلنگانہ اردو ورکنگ فیڈریشن کی جانب سے تلنگانہ کے تین اردو صحافیوں کو ایوارڈس
  • 13m
  • 0 views
  • 0 shares

حیدرآباد،تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے ریاست کے تین ممتاز صحافیوں کے نام سے موسومہ ایوارڈس کے لئے سینئر صحافیوں کے ناموں کو قطعیت دی گئی۔ فیض محمد اصغر ایوارڈ جناب شوکت علی خان سینئر صحافی حیدرآباد، انور ادیب ایوارڈ جناب طاہر رومانی سینئر صحافی حیدرآباد اور تبسم فرید ایوارڈ جناب سید منیر سینئر صحافی ظہیرآباد کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایوارڈ دس ہزر روپیہ نقدرقم، یادگار مومنٹو،توصیف نامہ، شال اور گلدستہ پر مشتمل ہے۔ ایوارڈ ہر سال فیڈریشن کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کا اجلاس جناب ایم اے ماجد صدر فیڈریشن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جناب سید غوث محی الدین جنرل سکریٹری نے رپورٹ پیش کی۔ ایوارڈ تقریب 10 ڈسمبر بروز جمعہ کی شام 6 بجے اردو مسکن ہال روبرو چو محلہ پیالس خلوت حیدرآباد میں منعقد ہوگی جس میں جناب محمد محمود علی وزیر داخلہ تلنگانہ، بی ونود کمار نائب صدرنشین اسٹیٹ پلاننگ بورڈ، جناب احمد بن عبداللہ بلعلہ رکن اسمبلی، جناب محمد سلیم چیرمین اسٹیٹ وقف بورڈ، الم نارائنا چیرمین اسٹیٹ میڈیا اکیڈمی، جناب سید عمر جلیل آئی اے ایس سکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈئٹ ایجوکیشن،جناب محمد قمر الدین سابق چیرمین اقلیتی کمیشن، جناب کے سرینواس ریڈی صدر انڈ ین جرنلسٹس یونین، جناب محمد غوث ڈائرکٹر/ سکریٹری اردو اکیڈمی، جناب ایس اے شکور سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ، جناب خواجہ وراحت علی جنرل سکریٹری تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کو مدعو کیا گیا۔ اجلاس میں طاہر رومانی، حبیب علی الجیلانی،ایف ایم سلیم، ایس ایس کے حسینی اقبال، محمد امجد علی، ایم اے محسن، شیخ رفیع، قادر فیصل اور لطیف بابلہ نے شرکت کی۔ فیڈریشن نے اردو صحافیوں سے 10 ڈسمبر کو منعقد شدنی سالانہ ایوارڈ تقریب میں شرکت کی خواہش کی۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

I

India Narrative

کیا پاکستان جلد ہوگا دیوالیہ ؟ پاکستان کے پاس ملازمین کو دینے کے لیے پیسے بھی نہیں

کیا پاکستان جلد ہوگا دیوالیہ ؟ پاکستان کے پاس  ملازمین کو دینے کے لیے پیسے بھی نہیں
  • 14m
  • 0 views
  • 0 shares

پاکستان نے سعودی عرب سے چار فیصد سود پر تین ارب ڈالر کا قرض لیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب سے 4 فیصد شرح سود پر تین ارب ڈالر کا قرضہ لیا ہے۔ نقدی کی کمی کا شکار پاکستان نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب سے امداد مانگی تھی۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کے کل مائع غیر ملکی ذخائر 22,498 ارب ڈالر ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد وزیر اعظم عمران خان کے ریاض کے دورے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت کے ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ملی ہے۔ مذاکرات کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کو 4.2 بلین ڈالر کی امداد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس میں سے 3 بلین ڈالر پاکستان کے مرکزی بینک میں بطور ڈپازٹس منتقل کیے جانے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ اور محصول شوکت ترین نے تصدیق کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے مالیاتی مشیر شوکت ترین نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں اس کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور مملکت سعودی عرب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے یہ قرضہ پاکستان کو ایک سال کے لیے 4 فیصد شرح سود پر پیکیج کی شرائط کے تحت ملا ہے جس پر گزشتہ ماہ دستخط ہوئے تھے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection